صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 18 - الوقت سیف

بخش 18 - الوقت سیف

وقت تلوار ہے

Time is Sword

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن، طارق
Toggle stanza 1
11

سبز بادا خاک پاک شافعی

عالمی سر خوش ز تاک شافعی

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی خاک پاک سبز ہو یعنی رحمت کی بارش سے ان کی تربت ٹھنڈی رہے، ایک دنیا امام موصوف کے انگور کا رس پی کر مست و سرخوش ہے ۔

Green be the pure grave of Sháfi‘í, Whose vine hath cheered a whole world!

22

فکر او کوکب ز گردون چیده است

سیف بران وقت را نامیده است

ان کی فکر نے آسمان کے تارے توڑے ہیں ۔ انھوں نے وقت کو کاٹنے والی تلوار قرار دیا ۔

His thought plucked a star from heaven: He named Time " a cutting sword."

33

من چه گویم سر این شمشیر چیست

آب او سرمایه دار از زندگیست

میں کیا بتاؤں کہ اس تلوار کی حقیقت (بھید) کیا ہے ۔ اس (تلوار) کی دھار زندگی سے مالامال ہے ۔

How shall I say what is the secret of this sword? All its brilliance is derived from Life.

44

صاحبش بالاتر از امید و بیم

دست او بیضا تر از دست کلیم

جس کے قبضے میں یہ تلوار ہے وہ امید و بیم سے اوپر نکل جاتا ہے ۔ اس کا ہاتھ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ہاتھ سے بھی زیادہ روشن ہو جاتا ہے ۔

Its owner is exalted above hope and fear, His hand is whiter than the hand of Moses.

55

سنگ از یک ضربت او تر شود

بحر از محرومی نم بر شود

اس کی ایک ضرب سے پتھر چشمے کی صورت میں پھوٹ پڑتا ہے اور سمندر (دریائے نیل) نمی یعنی پانی سے محروم ہو کر خشکی کی صورت اختیار کر جاتا ہے ۔

At one stroke thereof water gushes from the rock And the sea becomes land from dearth of moisture.

66

در کف موسی همین شمشیر بود

کار او بالاتر از تدبیر بود

حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں یہی تلوار تھی، ان کا معاملہ تدبیر سے بہت آگے تھا ۔

Moses held this sword in his hand, Therefore he wrought more than man may contrive.

77

سینه ی دریای احمر چاک کرد

قلزمی را خشک مثل خاک کرد

انھوں نے بحر احمر (مراد دریائے نیل) کا سینہ چاک کر ڈالا اور سمندر کو زمین کی طرح خشک کر ڈالا (اس میں سے پیدل چلنے کا راستہ نکال لیا) ۔

He clove the Red Sea asunder And made its waters like dry earth.

88

پنجه ی حیدر که خیبر گیر بود

قوت او از همین شمشیر بود

وہ جو حیدر (حضرت علی ) کا ہاتھ فاتح خیبر تھا تو ان کی قوت کے پیچھے بھی یہی تلوار تھی ۔

The arm of Ali, the conqueror of Khaibar, Drew its strength from this same sword.

99

گردش گردون گردان دیدنی است

انقلاب روز و شب فهمیدنی است

گردش کرنے والے آسمان کی گردش دیکھنے کے لائق ہے، رات دن کے انقلابات کی حیثیت پوری طرح سمجھنی چاہیے ۔

The revolution of the sky is visible, The change of day and night is perceived.

1010

ای اسیر دوش و فردا در نگر

در دل خود عالم دیگر نگر

اے مخاطب، تو گزری ہوئی کل اور آنے والی کل کے چکر میں پڑا ہوا ہے، ذرا غو ر فکر سے کام لے ، اپنے دل میں ایک اور ہی نئی دنیا کا تماشا کر ۔

Look, O thou enthralled by Yesterday and To-morrow, Behold another world in thine own heart!

1111

در گل خود تخم ظلمت کاشتی

وقت را مثل خطی پنداشتی

تو نے اپنی مٹی (اپنے خمیر) میں تاریکی کا بیج بو لیا ، تو نے وقت کو ایک لکیر کی طرح سمجھ لیا ۔

Thou hast sown the seed of darkness in thy clay, Thou hast imagined Time as a line.

1212

باز با پیمانه ی لیل و نهار

فکر تو پیمود طول روزگار

پھر شب و روز کے پیمانے سے، تیرے فکر نے زمانے کی لمبائی کو ناپا ۔

Thy thought measures length of Time With the measure of night and day.

1313

ساختی این رشته را زنار دوش

گشته ئی مثل بتان باطل فروش

تو نے اس دھاگے کو اپنے کندھے کی زنار بنا لیا، (جس کے نتیجے میں ) اور بتوں کی طرح باطل فروشی شروع کر دی ہے ۔

Thou mak’st this line a girdle on thine infidel waist; Thou art an advertiser of falsehood, like idols.

1414

کیمیا بودی و مشت گل شدی

سر حق زائیدی و باطل شدی

تو اکسیر تھا لیکن اب مٹی کا ڈھیر ہو کے رہ گیا، تو نے حق کے بھید کو ظاہر کیا اور پھر باطل بن گیا ۔

Thou wert the Elixir, and thou hast become a peck of dust; Thou wert born the conscience of Truth, and thou hast become a lie!

1515

مسلمی؟ آزاد این زنار باش

شمع بزم ملت احرار باش

کیا تو مسلمان ہے اس زنار سے آزاد ہو جا، آزاد لوگوں کی ملت بزم کی شمع بن جا ۔

Art thou a Moslem? Then cast off this girdle! Be a candle to the feast of the religion of the free!

1616

تو که از اصل زمان آگه نه ئی

از حیات جاودان آگه نه ئی

تجھے تو زمان کی اصل کی خبر ہی نہیں ہے، تو حیات دوام (جاودان) سے واقف ہی نہیں حیات ۔

Knowing not the origin of Time, Thou art ignorant of everlasting Life.

1717

تا کجا در روز و شب باشی اسیر

رمز وقت از «لی مع الله» یاد گیر

تو کب تک اس دن اور رات کے چکر میں سرگردان رہے گا ذرا، لی مع اللہ (اللہ میرے ساتھ )سے وقت کی حقیقت پر غور کر اور سمجھ ۔

How long wilt thou be a thrall of night and day? Learn the mystery of Time from the words "I have a time with God."

1818

این و آن پیداست از رفتار وقت

زندگی سریست از اسرار وقت

یہ اور وہ (دن اور رات) وقت کی گردش کا کرشمہ ہے بلکہ زندگی، وقت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے ۔

Phenomena arise from the march of Time, Life is a part of the contents of Time's consciousness.

1919

اصل وقت از گردش خورشید نیست

وقت جاوید است و خور جاوید نیست

وقت کی اصل سورج کی گردش سے وابستہ نہیں ہے، وقت تو جاودانی ہے، ہاں سورج فانی ہے وہ ہمیشہ نہیں رہ سکتا ۔

The cause of Time is not the revolution of the sun: Time is everlasting, but the sun does not last for ever.

2020

عیش و غم عاشور و هم عید است وقت

سر تاب ماه و خورشید است وقت

وقت عیش بھی ہے اور غم بھی (دوسرے لفظوں میں ) عاشورہ یعنی ماتم اور عید (خوشی ) بھی ہے، وقت چاند اور سورج کی روشنی کا راز بھی ہے ۔

Time is joy and sorrow, festival and fast; Time is the secret of moonlight and sunlight.

2121

وقت را مثل مکان گسترده ئی

امتیاز دوش و فردا کرده ئی

تو نے وقت کو بھی مکاں ہی کی طرح پھیلی ہوئی چیز قرار دے دیا ہے، تو نے دوش و فردا میں امتیاز کیا ہے ۔

Thou hast extended Time, like Space, And distinguished Yesterday from To-morrow.

2222

ای چو بو رم کرده از بستان خویش

ساختی از دست خود زندان خویش

اے بے خبر! تو اپنے باغ سے خوشبو بن کر اڑ گیا تو نے خود اپنے ہی ہاتھوں اپنا قید خانہ تیار کر لیا ۔

Thou hast fled, like a scent, from thine own garden; Thou hast made thy prison with thine own hand.

2323

وقت ما کو اول و آخر ندید

از خیابان ضمیر ما دمید

ہمارا وقت، جس نے اول و آخر (آغاز و انجام) نہیں دیکھا یہ ہمارے ضمیر کی کیاری سے اگتا ہے ۔

Our Time, which has neither beginning nor end, Blossoms from the flower-bed of our mind.

2424

زنده از عرفان اصلش زنده تر

هستی او از سحر تابنده تر

جو زندہ ہے وہ اسے (وقت) کی حقیقت کا پتہ چل جائے تو زندہ تر ہو گیا، اس کا وجود زندگی کی صبح سے بھی زیادہ منور و درخشاں ہو گیا ۔

To know its root quickens the living with new life: Its being is more splendid than the dawn.

2525

زندگی از دهر و دهر از زندگی است

«لاتسبوالدهر» فرمان نبی است

زندگی دہر سے اور دہر زندگی سے ہے ۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ دہر یعنی زمانے کو برا مت کہو ۔

Life is of Time, and Time is of Life: "Do not abuse Time!" was the command of the Prophet.

2626

نکته ای می گویمت روشن چو در

تا شناسی امتیاز عبد و حر

میں تجھے موتی کی طرح درخشان (روشن) ایک گہری بات بتانا چاہتا ہوں تا کہ تو غلام اور آزاد کے درمیان تمیز کر سکے ۔

Now I will tell you a point of wisdom as brilliant as a pearl, That you should realize the difference between a slave and a free man!

Translation: طارق

2727

عبد گردد یاوه در لیل و نهار

در دل حر یاوه گردد روزگار

غلام شب و روز کے چکر میں گم ہو جاتا ہے جب کہ آزاد کے ضمیر میں زمانہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ہے (اس میں گم ہو جاتا ہے) ۔

A slave is lost in the magic of days and nights, But Time, with all its expansion, is lost in the heart of a free man!

Translation: طارق

2828

عبد از ایام می باند کفن

روز و شب را می تند بر خویشتن

غلام، ایام (زمانے) سے اپنا کفن بنتا ہے (تیار کرتا ہے) وہ روز و شب کو اپنے آپ پر تن لیتا ہے (حاوی کر لیتا ہے) ۔

A slave weaves the shroud for himself by his times, And covers himself with the sheet of days and nights!

Translation: طارق

2929

مرد حر خود را ز گل بر می کند

خویش را بر روزگاران می تند

آزاد مرد خود کو مٹی سے باہر نکال لیتا ہے ، وہ خود کو زمانوں پر تن لیتا ہے (حاوی ہو جاتا ہے) ۔

But a free man keeps himself above the earth And attacks the world with all his might!

Translation: طارق

3030

عبد چون طایر بدام صبح و شام

لذت پرواز بر جانش حرام

غلام، پرندے کی مانند صبح اور شام کے جال میں گرفتار رہتا ہے، اس کی جان نے لذت پرواز اپنے آپ پر حرام کر رکھی ہے ۔

A slave is caught in the snare of days and nights like a bird, And the pleasure of flight is forbidden to his soul!

Translation: طارق

3131

سینه ی آزاده ی چابک نفس

طایر ایام را گردد قفس

ایک تیز سانس لینے والے آزاد کا سینہ زمانے کے پرندے کے لیے پنجرا بن جاتا ہے ۔

But the quick-breathing breast of a free man Becomes a cage for the Bird of Time!

Translation: طارق

3232

عبد را تحصیل حاصل فطرت است

واردات جان او بی ندرت است

غلام کی فطرت لی ہوئی چیز کے حصول پر قائم رہتی ہے (جو کچھ میسر ہے اسی پر قناعت کرتا ہے) ۔ اس کی جان و دل پر گزرنے والی کیفیات، انوکھے پن اور جدت سے عاری ہیں ۔

To a slave, Nature is a meaningless word, And there is nothing rare in the impressions of his soul!

Translation: طارق

3333

از گران خیزی مقام او همان

ناله های صبح و شام او همان

وہ کاہلی اور سستی سے ایک جگہ سے دوسرے جگہ جانا اس کے لیے دو بھر ہو جاتا ہے ، وہ اسی جگہ پر کھڑا ہے ، وہ صبح و شام ایک ہی رنگ کی آہ و فغان کرتا رہتا ہے ۔

Owing to his heaviness and laziness his abode is always the same, And the cries of his morn and eve are always the same!

Translation: طارق

3434

دمبدم نو آفرینی کار حر

نغمه پیهم تازه ریزد تار حر

آزاد ہر وقت نئی چیزیں پیدا کرتا ہے ۔ اس کے ساز سے برابر تازہ نغمے نکلتے رہتے ہیں ۔

But the attempt of a free man creates new things every moment And his string continuously produces new tunes!

Translation: طارق

3535

فطرتش زحمت کش تکرار نیست

جاده ی او حلقه ی پرگار نیست

اس کی سرشت کسی چیز کو بار بار کرنے کی تکلیف نہیں اٹھاتی، اس کا راستہ پرکار کا حلقہ یا دائرہ نہیں ہے(کہ ہر پھر کر ایک ہی جگہ واپس آ جائے) ۔

His nature is not obliged to any sort of repetition, Because his path is not like the circle caused by compasses!

Translation: طارق

3636

عبد را ایام زنجیر است و بس

بر لب او حرف تقدیر است و بس

(اس کے برعکس) غلام کی یہ حالت ہے کہ و ہ محض وقت کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے، اس کے لب پر تقدیر ہی کا لفظ رہتا ہے اور بس(جو کچھ پیش آتا ہے اسی کی وہ تقدیر مان لیتا ہے) ۔

To a slave Time is but a chain, And he always complains against the fate!

Translation: طارق

3737

همت حر با قضا گردد مشیر

حادثات از دست او صورت پذیر

آزاد مرد کی ہمت قضا و قدر کی مشیر بن جاتی ہے، اس کے ہاتھوں سے نئے نئے وقوعات جنم لیتے ہیں ۔

But the courage of a free man gives instructions to his fate And the great revolutions of the world are caused by his powerful hand!

Translation: طارق

3838

رفته و آینده در موجود او

دیرها آسوده اندر زود او

ماضی اور مستقبل اس میں موجود ہوتے ہیں ، دیریاں اس کی جلدی میں آرام کرتی ہیں ۔

The past the future are dissolved in his preset And all the delayed plans are observed by his quick action!

Translation: طارق

3939

آمد از صوت و صدا پاک این سخن

در نمی آید به ادراک این سخن

اس بات (موضوع) کے لیے آواز درکار نہیں ہے، یہ بات فہم و شعور اور عقل سے ماورا ہے(سمجھ میں نہیں آتی) ۔

These words of mine are beyond sound, beyond discussion, For their meaning can’t be understood easily!

Translation: طارق

4040

گفتم و حرفم ز معنی شرمسار

شکوه ی معنی که با حرفم چه کار

میں نے بات تو کر دی لیکن معنی میرے الفاظ سے شرمسار ہیں ، معنی کو یہ شکایت ہے کہ مجھے الفاظ سے کیا واسطہ ۔

Although I have expressed my views about Time yet my shallow words are ashamed of the meaning;— And the meaning itself has a complaint: “What have I to do with the words?”

Translation: طارق

4141

زنده معنی چون به حرف آمد بمرد

از نفس های تو نار او فسرد

جب زندہ معنی الفاظ میں بیان کئے جائیں تو وہ مر جاتا ہے ، تیرے سانس اس کی آگ بجھا دیتے ہیں ۔

In fact, a living meaning when expressed in words, dies out; Your very breaths extinguish its fire!

Translation: طارق

4242

نکته ی غیب و حضور اندر دل است

رمز ایام و مرور اندر دل است

حضور غایب کا نکتہ دل کے اندر ہے، ایام اور مرور (زمانے اور گزرنے کی صورتحال) کی حقیقت دل میں ہے ۔

Nevertheless, the point of Absence and Presence is in the depth of our heart; The mystery of Time and its motion is in the depth of our heart!

Translation: طارق

4343

نغمه ی خاموش دارد ساز وقت

غوطه در دل زن که بینی راز وقت

وقت کے ساز کا نغمہ بے آواز ہے یعنی حواس کے ذریعے سے سنا نہیں جا سکتا البتہ تو دل میں غوطہ لگا تا کہ وقت کا راز تجھ پر آشکار ہو جائے ۔

The musical instrument of Time has its own silent tunes: Oh, dive deep into your heart that you may realize the secret of Time!

Translation: طارق

4444

یاد ایامی که سیف روزگار

با توانا دستی ما بود یار

کبھی وہ دور بھی تھا جب زمانے کی تلوار ہمارے قوی بازو کی رفیق بنی ہوئی تھی ۔

Oh, the memory of those days when Timeʹs sword Was allied with the strength of our hands!

4545

تخم دین در کشت دلها کاشتیم

پرده از رخسار حق برداشتیم

ہم نے اپنے دلوں میں کھیتی میں دین کا بیج بو رکھا تھا ہم نے حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھا دیا ۔

We sowed the seed of religion in men's hearts And unveiled the face of Truth.

4646

ناخن ما عقده ی دنیا گشاد

بخت این خاک از سجود ما گشاد

ہمارے ناخن نے دنیا کی الجھن کو سلجھایا تھا ۔ اس زمین کا نصیبہ ہمارے سجدوں کے باعث چمک اٹھا ۔

Our nails tore loose the knot of this world, Our bowing in prayer gave blessings to the earth.

4747

از خم حق باده ی گلگون زدیم

بر کهن میخانه ها شبخون زدیم

ہم نے حق کے مٹکے سے گلاب جیسی شراب پی ۔ ہم نے پرانے شراب خانوں پر شبخون مارا(ہم نے تمام پرانے نظریات و تصورات کو ختم کر کے رکھ دیا) ۔

From the jar of Truth we made rosy wine gush forth, We charged against the ancient taverns.

4848

ای می دیرینه در مینای تو

شیشه آب از گرمی صهبای تو

اے مغرب والو! صراحی میں پرانی شراب (ہمارے علوم و فنون) موجود ہے، شیشہ تیری شراب کی حرارت سے پگھلا جا رہا ہے ۔

O thou in whose cup is old wine, A wine so hot that the glass is well-nigh turned to water.

4949

از غرور و نخوت و کبر و منی

طعنه بر ناداری ما میزنی

تو گھمنڈ ، تکبر ، غرور اور انا کے باعث ہماری مفلسی (علوم و حکمت و فنون سے محرومی) پر طعنہ مارتا ہے ۔

Wilt thou in thy pride and arrogance and self-conceit Taunt us with our emptiness?

5050

جام ما هم زیب محفل بوده است

سینه ی ما صاحب دل بوده است

کبھی ہمارا جام بھی مجلس کی زینت تھا، ہمارا سینہ بھی کبھی صاحب دل رہا ہے ۔

Our cup, too, hath graced the symposium; Our breast hath owned a spirit.

5151

عصر نو از جلوه ها آراسته

از غبار پای ما برخاسته

یہ جو جدید دور (اپنے سائنسی علوم) کے جلووں سے آراستہ ہے تو یہ سب ہمارے پاؤں کی گرد یا غبار سے نکلے ہیں ۔

A new age hath been endued with our beauty And hath risen from the dust of our feet.

5252

کشت حق سیراب گشت از خون ما

حق پرستان جهان ممنون ما

حق کی کھیتی ہمارے خون سے سرسبز و شاداب ہوئی اور دنیا بھر کے حق پرست ہمارے ممنون ہیں ۔

Our blood hath watered God's harvest, All worshippers of God are our debtors.

5353

عالم از ما صاحب تکبیر شد

از گل ما کعبه ها تعمیر شد

دنیا کو ہم نے تکبیر سکھائی، ہماری مٹی سے یعنی ہمارے ہی دم سے کئی کعبے تعمیر ہوئے (اسلام کی روشنی پھیلی) ۔

The takbír was our gift to the world Ka‘bas were built of our clay.

5454

حرف اقرأ حق بما تعلیم کرد

رزق خویش از دست ما تقسیم کرد

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اقراء کے لفظ کی تعلیم دی تھی اس نے اپنا رزق ہمارے ہاتھوں سے تقسیم کرایا تھا ۔

By means of us God taught the Koran, From our hand He dispensed His bounty.

5555

گرچه رفت از دست ما تاج و نگین

ما گدایان را بچشم کم مبین

اگرچہ ہم سے تاج و نگین (اقتدار) چھن گیا ہے تا ہم تو ہم فقیروں کو حقارت سے نہ دیکھ ۔

Although crown and signet have passed from us, Do not look with contempt on our beggarliness!

5656

در نگاه تو زیان کاریم ما

کهنه پنداریم ما ، خواریم ما

تیری نظروں میں تو ہم گھاٹے کا سودا کرنے والے ہیں ، رجعت پسند (دقیانوسی) ہیں اور ذلیل و خوار ہیں ۔

In thine eyes we are good for nothing, Thinking old thoughts, despicable.

5757

اعتبار از لااله داریم ما

هر دو عالم را نگه داریم ما

کیا کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ لا الہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ) ہی سے ہماری عزت اور آبرو ہے، ہم دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔

We have honour from "There is no god but Allah," We are the preservers of the universe.

5858

از غم امروز و فردا رسته ایم

با کسی عهد محبت بسته ایم

ہم حال اور مستقبل کے غم سے نجات پائے ہوئے ہیں (کوئی فکر نہیں ) ہم نے کسی (مراد رسول اللہ) کے ساتھ محبت کا عہد کر رکھا ہے ۔

Freed from the vexation of to-day and to-morrow, We have pledged ourselves to love One.

5959

در دل حق سر مکنونیم ما

وارث موسی و هارونیم ما

ہم خدا کے دل کا چھپا ہوا بھید ہیں ، ہم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے ترکے کے وارث ہیں ۔

We are the conscience hidden in God's heart, We are the heirs of Moses and Aaron.

6060

مهر و مه روشن ز تاب ما هنوز

برقها دارد سحاب ما هنوز

سورج اور چاند ابھی تک ہماری تب و تاب سے روشن ہیں ۔ ابھی تک ہمارے بادل میں بجلیاں موجود ہیں ۔

Sun and moon are still bright with our radiance, Lightning-flashes still lurk in our cloud.

6161

ذات ما آئینهٔ ذات حق است

هستی مسلم ز آیات حق است

ہمارا وجود خدا کے وجود کا آئینہ ہے، مسلمان کا وجود خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔

Our essence is the mirror of the Divine essence: The Moslem's being is one of the signs of God.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای که مثل گل ز گل بالیده‌ای

تو هم از بطن خودی زائیده‌ای

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 17 - اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است

اگلی نظم

ای چو جان اندر وجود عالمی

جان ما باشی و از ما می رمی

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 19 - دعا

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور