دعا
An Invocation
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
ای چو جان اندر وجود عالمی
جان ما باشی و از ما می رمی
اے (ذات باری تعالیٰ) تو کائنات کے وجود میں اسی طرح مخفی ہے جس طرح روح بدن میں (یا تو کائنات کے وجود میں روح کی مانند ہے) جانوں میں چھپا بیٹھا ہے لیکن ہم سے دور بھاگ رہا ہے ۔
O Thou that art as the soul in the body of the universe, Thou art our soul and thou art ever fleeing from us.
نغمه از فیض تو در عود حیات
موت در راه تو محسود حیات
صرف تیرے ہی فیض کی برکت سے تو زندگی کے ساز میں نغمہ پیدا ہوتا ہے ۔ تیری راہ میں جو موت آئے وہ زندگی کے لیے باعث رشک ہے ۔
Thou breathest music into Life's lute; Life envies Death when death is for thy sake.
باز تسکین دل ناشاد شو
باز اندر سینه ها آباد شو
اب تو پھر اس غم ناک دل کی تسکین کا سامان بن، پھر ہمارے سینوں میں آ کر بس جا ۔
Once more bring comfort to our sad hearts, Once more dwell in our breasts!
باز از ما خواه ننگ و نام را
پخته تر کن عاشقان خام را
پھر سے ہم سے عزت و احترام کا طالب ہو ہم عشق میں خام ہیں ہمیں پختہ عاشق بنا دے ۔
Once more let us hear thy call to honour, Strengthen our weak love.
از مقدر شکوه ها داریم ما
نرخ تو بالا و ناداریم ما
اپنی قسمت کی شکایتیں ہماری زبان پر ہیں یعنی تقدیر کا شکوہ کرنے میں لگے رہتے ہیں تیرا نرخ زیادہ ہے اور ہم مفلس و نادار ہیں ۔
We are oft complaining of destiny, Thou art of great price and we have naught.
از تهیدستان رخ زیبا مپوش
عشق سلمان و بلال ارزان فروش
ہم خالی ہاتھ لوگوں سے اپنا حسین و دلکش چہرہ نہ چھپا، حضرت سلمان فارسی اور حضرت بلال حبشی والا اونچے درجے کا عشق سستا کر دے (تاکہ ہم اس سے فیض حاصل کر سکیں ) ۔
Hide not thy fair face from the empty-handed! Sell cheap the love of Salmán and Bilál!.
چشم بیخواب و دل بیتاب ده
باز ما را فطرت سیماب ده
جاگتی رہنے والی آنکھ اور بے قرار دل عطا کر، پھر سے ہمیں پہلے کی طرح پارے کی سی بے قرار فطرت دے ۔
Give us the sleepless eye and the passionate heart, Give us again the nature of quicksilver!
آیتی بنما ز آیات مبین
تا شود اعناق اعدا خاضعین
اپنے روشن نشانوں میں سے ایک روشن نشانی دکھا تاکہ دشمنوں کی گردنیں نیچی ہو جائیں ۔
Show unto us one of thy manifest signs, That the necks of our enemies may be bowed!
کوه آتش خیز کن این کاه را
ز آتش ما سوز غیر الله را
اس گھاس پھوس یا تنکے کو آگ اچھا لنے والا پہاڑ بنا دے، ہماری آگ کو وہ تپش عطا کر کہ وہ ماسوا اللہ کو جلا دے(تیرے سوا ہر شے کو جلا دے) ۔
Make this chaff a mountain crested with fire, Burn with our fire all that is not God!
رشته ی وحدت چو قوم از دست داد
صد گره بر روی کار ما فتاد
جب سے قوم نے وحدت کا رشتہ چھوڑا ہمارے کام کے رشتے میں سینکڑوں گرہیں پڑ گئیں ۔
When the people let the clue of Unity go from their hands, They fell into a hundred mazes.
ما پریشان در جهان چون اختریم
همدم و بیگانه از یکدیگریم
ہم دنیا میں ستاروں کی طرح منتشر ہو کر رہ گئے، اگرچہ ہم ساتھی ہیں لیکن ایک دوسرے سے نا آشنا (اجنبی) ہیں ۔
We are dispersed like stars in the world; Though of the same family, we are strange to one another.
باز این اوراق را شیرازه کن
باز آئین محبت تازه کن
ان بکھرے ہوئے اوراق کی پھر سے شیرازہ بندی کر دے (بندھ جانے کا سامان کر دے) پھر سے (وہی پہلے والا) محبت کا دستور تازہ کر دے ۔
Bind again these scattered leaves, Revive the law of love!
باز ما را بر همان خدمت گمار
کار خود با عاشقان خود سپار
ہمیں پھر سے وہی خدمت سونپ دے، جس پر ہم پہلے مامور تھے، اپنا معاملہ اپنے عاشقوں کے سپرد کر ۔
Take us back to serve thee as of old, Commit thy cause to them that love thee!
رهروان را منزل تسلیم بخش
قوت ایمان ابراهیم بخش
ہم چلنے والوں کو تسلیم کی منزل عطا کر، ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کی قوت عطا کر ۔
We are travellers: give us devotion as our goal! Give us the strong faith of Abraham!
عشق را از شغل لا آگاه کن
آشنای رمز الاالله کن
عشق کو پہلے لا کے وظیفے سے آگاہ کر پھر اسے الا اللہ کی رمز سے آشنا کر ۔
Make us know the meaning of "There is no god," Make us acquainted with the mystery of "except Allah"!
منکه بهر دیگران سوزم چو شمع
بزم خود را گریه آموزم چو شمع
میں شمع کی طرح دوسروں کے لیے جل رہا ہوں ، اپنی محفل کو شمع کی صورت رونا سکھا رہا ہوں ۔
I who burn like a candle for the sake of others Teach myself to weep like the candle.
یارب آن اشکی که باشد دلفروز
بیقرار و مضطر و آرام سوز
یا الہٰی ایسا آنسو عطا کر جو دلوں میں روشنی پیدا کر دے ، جو بے قرار ہو، بے تاب ہو اور آرام کو جلا دے ۔
O God! a tear that is heart-enkindling, Passionful, wrung forth by pain, peace-consuming,
کارمش در باغ و روید آتشی
از قبای لاله شوید آتشی
میں وہ آنسو باغ میں بووَں اور اس سے آگ اُگے، ایسی آگ جو لالہ کی قبا سے آگ کودھو ڈالے (آگ جھڑنے لگے)
May I sow in the garden, and may it grow into a fire That washes away the fire-brand from the tulip's robe!
دل بدوش و دیده بر فرداستم
در میان انجمن تنها ستم
میرا دل ماضی کی کیفیتوں میں کھویا ہوا ہے اور آنکھیں مستقبل کی طرف جمی ہوئی ہیں ، میں بزم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہوں ۔
My heart is with yestereve, my eye is on to-morrow: Amidst the company I am alone.
«هر کسی از ظن خود شد یار من
از درون من نجست اسرار من»
ہر کوئی اپنے اپنے خیال کے مطابق میرا دوست بن گیا لیکن کسی نے میرے اندر جھانک کر میرے اسرار جاننے کی کوشش نہ کی(یہ مولانا روم کا شعر ہے) ۔
"Every one fancies he is my friend, But my secret thoughts have not escaped from my heart."
در جهان یارب ندیم من کجاست
نخل سینایم کلیم من کجاست
یارب دنیا میں میرا ہم خیال (ساتھی) کہاں ہے، میں کوہ طور کا نخل ہوں میرا کلیم کہاں ہے ۔
Oh, where in the wide world is my comrade? I am the Bush of Sinai: where is my Moses?
ظالمم بر خود ستم ها کرده ام
شعله ئی را در بغل پرورده ام
اے خدا ! میں ظالم ہوں ، میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کئے ہیں ، میں ایک شعلے کو اپنی آغوش میں پالتا رہا ۔
I am tyrannous, I have done many a wrong to myself, I have nourished a flame in my bosom.
شعله ئی غارت گر سامان هوش
آتشی افکنده در دامان هوش
ایسا شعلہ جو عقل و شعور کا اسباب و اثاثہ لوٹ کر لے گیا، جس نے عقل کے دامن میں آگ لگا دی ۔
A flame that seized the furniture of judgement, And cast fire on the skirt of discretion.
عقل را دیوانگی آموخته
علم را سامان هستی سوخته
عقل نے دیوانگی سکھائی، اس نے علم کی ہستی کا سازوسامان جلا کر رکھ دیا ۔
And lessoned with madness the reason, And burned up the existence of knowledge.
آفتاب از سوز او گردون مقام
برقها اندر طواف او مدام
سورج اس کی تپش کی بدولت آسمان کی سی رفعت والا ہے، بجلیاں ہر وقت اس کا طواف کرتی رہتی ہیں ۔
Its blaze enthrones the sun in the sky, And lightnings encircle it with adoration for ever.
همچو شبنم دیده ی گریان شدم
تا امین آتش پنهان شدم
میں شبنم کی طرح روتی ہوئی آنکھ بنا، جب کہیں یہ چھپی ہوئی آگ میرے سپرد ہوئی ۔
Mine eye fell to weeping, like dew, Since I was entrusted with that hidden fire.
شمع را سوز عیان آموختم
خود نهان از چشم عالم سوختم
شمع کو تو میں نے کھلم کھلا جلنے کی تعلیم دی لیکن خود میں دنیا کی نظروں سے چھپ کر جلتا رہا ۔
I taught the candle to burn openly, While I myself burned unseen by the world's eye.
شعله ها آخر ز هر مویم دمید
از رگ اندیشه ام آتش چکید
آخر میرے بدن کے روئیں روئیں سے شعلے پھوٹ پڑے، میرے فکر کی رگوں میں آگ ٹپکنے لگی ۔
At last flames breathed from every hair of me, Fire dropped from the veins of my thought.
عندلیبم از شرر ها دانه چید
نغمه ی آتش مزاجی آفرید
میری بلبل نے چنگاریوں سے دانہ دنکا چنا، اس (بلبل) نے آگ کی فطرت کا حامل (آتشیں ) نغمہ پیدا کیا ۔
My nightingale picked up the spark-grains And created a fire-tempered song.
سینه ی عصر من از دل خالی است
می تپد مجنون که محمل خالی است
میرے دور کے (افراد ملت کا) سینہ دل سے خالی ہے (کوئی صاحب دل نظر نہیں آتا) مجنون تڑپ رہا ہے کہ محمل خالی ہو گیا ہے ۔
Is the breast of this age without a heart? Majnún trembles lest Lailá's howdah be empty.
شمع را تنها تپیدن سهل نیست
آه یک پروانه ی من اهل نیست
شمع کے لیے اکیلے جلتے رہنا آسان نہیں ، افسوس کہ میرا ایک بھی پروانہ اہل نہیں ہے ۔
It is not easy for the candle to throb alone Ah, is there no moth worthy of me?
انتظار غمگساری تا کجا
جستجوی راز داری تا کجا
کسی غمگسار کا انتظار کرتا رہوں کب تک کسی رازدار کی تلاش میں دوڑتا پھروں
How long shall I wait for one to share my grief? How long must I search for a confidant?
ای ز رویت ماه و انجم مستنیر
آتش خود را ز جانم باز گیر
اے (رب ذوالجلال) تو ، کہ تیرے رخ سے چاند ستارے روشنی حاصل کرتے ہیں اپنی آگ جو میری جان میں رکھی ہے اسے واپس لے لے ۔
O Thou whose face lends light to the moon and the stars, Withdraw thy fire from my soul!
این امانت بازگیر از سینه ام
خار جوهر برکش از آئینه ام
میرے سینے سے یہ امانت واپس لے لیجیئے، میرے آئینے سے جوہر کا کانٹا نکال دیجیئے۔
Take back what Thou hast put in my breast, Remove the stabbing radiance from my mirror.
یا مرا یک همدم دیرینه ده
عشق عالم سوز را آئینه ده
(اگر ایسا نہیں تو) پھر مجھے کوئی پرانا ساتھی ہی عطا کر، دنیا کو جلا دینے والے عشق کو آئینہ کر ۔
Or give me one old comrade To be the mirror of mine all-burning love!
موج در بحر است هم پهلوی موج
هست با همدم تپیدن خوی موج
موج سمندر میں دوسری موج کے ساتھ مل کر چلتی ہے، باہم مل کر تڑپنا موج کی فطرت ہے ۔
In the sea wave tosses side by side with wave: Each hath a partner in its emotion.
بر فلک کوکب ندیم کوکبست
ماه تابان سر بزانوی شب است
آسمان پر ایک ستارہ دوسرے ستارے کا ساتھی ہے، روشن چاند، رات کی گود میں سر رکھے رہتا ہے ۔
In heaven star consorts with star, And the bright moon lays her head on the knees of Night.
روز پهلوی شب یلدا زند
خویش را امروز بر فردا زند
دن، تاریک اور طویل رات سے پہلو مارتا ہے، آج اپنے آپ کو آنے والی کل پر گراتا ہے ۔
Morning touches Night's dark side, And To-day throws itself against To-morrow.
هستی جوئی بجوئی گم شود
موجه ی بادی ببوئی گم شود
ایک ندی کا وجود دوسری ندی میں گم ہو جاتا ہے، ہوا کا جھونکا کسی خوشبو میں گم ہو جاتا ہے ۔
One river loses its being in another, A waft of air dies in perfume.
هست در هر گوشه ی ویرانه رقص
می کند دیوانه با دیوانه رقص
ویرانے کے گوشے میں رقص ہو رہا ہے، دیوانہ دوسرے دیوانے کے ساتھ ناچ رہا ہے ۔
There is dancing in every nook of the wine-house, Madman dances with madman.
گرچه تو در ذات خود یکتاستی
عالمی از بهر خویش آراستی
اگرچہ تو اپنی ذات میں لا شریک ہے (لیکن پھر بھی) تو نے اپنی دلچسپی کے لیے ایک پوری کائنات سجا ڈالی ۔
Howbeit in thine essence Thou art single, Thou hast decked out for Thyself a whole world.
من مثال لاله ی صحراستم
درمیان محفلی تنهاستم
میں صحرا کے گل لالہ کی مانند (تنہا) ہوں ، بھری محفل میں بھی تنہا ہوں ۔
I am as the tulip of the field, In the midst of a company I am alone.
خواهم از لطف تو یاری همدمی
از رموز فطرت من محرمی
میں تیرے فضل و کرم سے ایک ایسے رفیق و غمگسار کا طالب ہوں جو میری فطرت کے رموز سے پوری طرح واقف ہو ۔
I beg of Thy grace a sympathising friend, An adept in the mysteries of my nature.
همدمی دیوانه ئی فرزانه ئی
از خیال این و آن بیگانه ئی
وہ ایسا ساتھی ہو جو دیوانہ بھی ہو اور عقل مند بھی یعنی اسے دنیوی یا دنیاوی عزہ و جاہ سے کوئی سروکار نہ ہو ۔
A friend endowed with madness and wisdom, One that knoweth not the phantom of vain things.
تا بجان او سپارم هوی خویش
باز بینم در دل او روی خویش
تاکہ میں اپنی عشق و محبت کی آگ اس کی جان کے حوالے کر دوں پھر اس کے دل میں اپنا چہرہ دیکھوں ۔
That I may confide my lament to his soul And see again my face in his heart.
سازم از مشت گل خود پیکرش
هم صنم او را شوم هم آزرش
اپنی مٹھی بھر خاک سے اس کا جسم بناؤں ، پھر خود ہی اس کا بت بن جاؤں اور خود ہی اسے تراشنے والا بھی بن جاؤں ۔
His image I will mould of mine own clay, I will be to him both idol and worshipper.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور