صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 19 - دعا

بخش 19 - دعا

دعا

An Invocation

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

ای چو جان اندر وجود عالمی

جان ما باشی و از ما می رمی

اے (ذات باری تعالیٰ) تو کائنات کے وجود میں اسی طرح مخفی ہے جس طرح روح بدن میں (یا تو کائنات کے وجود میں روح کی مانند ہے) جانوں میں چھپا بیٹھا ہے لیکن ہم سے دور بھاگ رہا ہے ۔

O Thou that art as the soul in the body of the universe, Thou art our soul and thou art ever fleeing from us.

22

نغمه از فیض تو در عود حیات

موت در راه تو محسود حیات

صرف تیرے ہی فیض کی برکت سے تو زندگی کے ساز میں نغمہ پیدا ہوتا ہے ۔ تیری راہ میں جو موت آئے وہ زندگی کے لیے باعث رشک ہے ۔

Thou breathest music into Life's lute; Life envies Death when death is for thy sake.

33

باز تسکین دل ناشاد شو

باز اندر سینه ها آباد شو

اب تو پھر اس غم ناک دل کی تسکین کا سامان بن، پھر ہمارے سینوں میں آ کر بس جا ۔

Once more bring comfort to our sad hearts, Once more dwell in our breasts!

44

باز از ما خواه ننگ و نام را

پخته تر کن عاشقان خام را

پھر سے ہم سے عزت و احترام کا طالب ہو ہم عشق میں خام ہیں ہمیں پختہ عاشق بنا دے ۔

Once more let us hear thy call to honour, Strengthen our weak love.

55

از مقدر شکوه ها داریم ما

نرخ تو بالا و ناداریم ما

اپنی قسمت کی شکایتیں ہماری زبان پر ہیں یعنی تقدیر کا شکوہ کرنے میں لگے رہتے ہیں تیرا نرخ زیادہ ہے اور ہم مفلس و نادار ہیں ۔

We are oft complaining of destiny, Thou art of great price and we have naught.

66

از تهیدستان رخ زیبا مپوش

عشق سلمان و بلال ارزان فروش

ہم خالی ہاتھ لوگوں سے اپنا حسین و دلکش چہرہ نہ چھپا، حضرت سلمان فارسی اور حضرت بلال حبشی والا اونچے درجے کا عشق سستا کر دے (تاکہ ہم اس سے فیض حاصل کر سکیں ) ۔

Hide not thy fair face from the empty-handed! Sell cheap the love of Salmán and Bilál!.

77

چشم بیخواب و دل بیتاب ده

باز ما را فطرت سیماب ده

جاگتی رہنے والی آنکھ اور بے قرار دل عطا کر، پھر سے ہمیں پہلے کی طرح پارے کی سی بے قرار فطرت دے ۔

Give us the sleepless eye and the passionate heart, Give us again the nature of quicksilver!

88

آیتی بنما ز آیات مبین

تا شود اعناق اعدا خاضعین

اپنے روشن نشانوں میں سے ایک روشن نشانی دکھا تاکہ دشمنوں کی گردنیں نیچی ہو جائیں ۔

Show unto us one of thy manifest signs, That the necks of our enemies may be bowed!

99

کوه آتش خیز کن این کاه را

ز آتش ما سوز غیر الله را

اس گھاس پھوس یا تنکے کو آگ اچھا لنے والا پہاڑ بنا دے، ہماری آگ کو وہ تپش عطا کر کہ وہ ماسوا اللہ کو جلا دے(تیرے سوا ہر شے کو جلا دے) ۔

Make this chaff a mountain crested with fire, Burn with our fire all that is not God!

1010

رشته ی وحدت چو قوم از دست داد

صد گره بر روی کار ما فتاد

جب سے قوم نے وحدت کا رشتہ چھوڑا ہمارے کام کے رشتے میں سینکڑوں گرہیں پڑ گئیں ۔

When the people let the clue of Unity go from their hands, They fell into a hundred mazes.

1111

ما پریشان در جهان چون اختریم

همدم و بیگانه از یکدیگریم

ہم دنیا میں ستاروں کی طرح منتشر ہو کر رہ گئے، اگرچہ ہم ساتھی ہیں لیکن ایک دوسرے سے نا آشنا (اجنبی) ہیں ۔

We are dispersed like stars in the world; Though of the same family, we are strange to one another.

1212

باز این اوراق را شیرازه کن

باز آئین محبت تازه کن

ان بکھرے ہوئے اوراق کی پھر سے شیرازہ بندی کر دے (بندھ جانے کا سامان کر دے) پھر سے (وہی پہلے والا) محبت کا دستور تازہ کر دے ۔

Bind again these scattered leaves, Revive the law of love!

1313

باز ما را بر همان خدمت گمار

کار خود با عاشقان خود سپار

ہمیں پھر سے وہی خدمت سونپ دے، جس پر ہم پہلے مامور تھے، اپنا معاملہ اپنے عاشقوں کے سپرد کر ۔

Take us back to serve thee as of old, Commit thy cause to them that love thee!

1414

رهروان را منزل تسلیم بخش

قوت ایمان ابراهیم بخش

ہم چلنے والوں کو تسلیم کی منزل عطا کر، ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کی قوت عطا کر ۔

We are travellers: give us devotion as our goal! Give us the strong faith of Abraham!

1515

عشق را از شغل لا آگاه کن

آشنای رمز الاالله کن

عشق کو پہلے لا کے وظیفے سے آگاہ کر پھر اسے الا اللہ کی رمز سے آشنا کر ۔

Make us know the meaning of "There is no god," Make us acquainted with the mystery of "except Allah"!

1616

منکه بهر دیگران سوزم چو شمع

بزم خود را گریه آموزم چو شمع

میں شمع کی طرح دوسروں کے لیے جل رہا ہوں ، اپنی محفل کو شمع کی صورت رونا سکھا رہا ہوں ۔

I who burn like a candle for the sake of others Teach myself to weep like the candle.

1717

یارب آن اشکی که باشد دلفروز

بیقرار و مضطر و آرام سوز

یا الہٰی ایسا آنسو عطا کر جو دلوں میں روشنی پیدا کر دے ، جو بے قرار ہو، بے تاب ہو اور آرام کو جلا دے ۔

O God! a tear that is heart-enkindling, Passionful, wrung forth by pain, peace-consuming,

1818

کارمش در باغ و روید آتشی

از قبای لاله شوید آتشی

میں وہ آنسو باغ میں بووَں اور اس سے آگ اُگے، ایسی آگ جو لالہ کی قبا سے آگ کودھو ڈالے (آگ جھڑنے لگے)

May I sow in the garden, and may it grow into a fire That washes away the fire-brand from the tulip's robe!

1919

دل بدوش و دیده بر فرداستم

در میان انجمن تنها ستم

میرا دل ماضی کی کیفیتوں میں کھویا ہوا ہے اور آنکھیں مستقبل کی طرف جمی ہوئی ہیں ، میں بزم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہوں ۔

My heart is with yestereve, my eye is on to-morrow: Amidst the company I am alone.

2020

«هر کسی از ظن خود شد یار من

از درون من نجست اسرار من»

ہر کوئی اپنے اپنے خیال کے مطابق میرا دوست بن گیا لیکن کسی نے میرے اندر جھانک کر میرے اسرار جاننے کی کوشش نہ کی(یہ مولانا روم کا شعر ہے) ۔

"Every one fancies he is my friend, But my secret thoughts have not escaped from my heart."

2121

در جهان یارب ندیم من کجاست

نخل سینایم کلیم من کجاست

یارب دنیا میں میرا ہم خیال (ساتھی) کہاں ہے، میں کوہ طور کا نخل ہوں میرا کلیم کہاں ہے ۔

Oh, where in the wide world is my comrade? I am the Bush of Sinai: where is my Moses?

2222

ظالمم بر خود ستم ها کرده ام

شعله ئی را در بغل پرورده ام

اے خدا ! میں ظالم ہوں ، میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کئے ہیں ، میں ایک شعلے کو اپنی آغوش میں پالتا رہا ۔

I am tyrannous, I have done many a wrong to myself, I have nourished a flame in my bosom.

2323

شعله ئی غارت گر سامان هوش

آتشی افکنده در دامان هوش

ایسا شعلہ جو عقل و شعور کا اسباب و اثاثہ لوٹ کر لے گیا، جس نے عقل کے دامن میں آگ لگا دی ۔

A flame that seized the furniture of judgement, And cast fire on the skirt of discretion.

2424

عقل را دیوانگی آموخته

علم را سامان هستی سوخته

عقل نے دیوانگی سکھائی، اس نے علم کی ہستی کا سازوسامان جلا کر رکھ دیا ۔

And lessoned with madness the reason, And burned up the existence of knowledge.

2525

آفتاب از سوز او گردون مقام

برقها اندر طواف او مدام

سورج اس کی تپش کی بدولت آسمان کی سی رفعت والا ہے، بجلیاں ہر وقت اس کا طواف کرتی رہتی ہیں ۔

Its blaze enthrones the sun in the sky, And lightnings encircle it with adoration for ever.

2626

همچو شبنم دیده ی گریان شدم

تا امین آتش پنهان شدم

میں شبنم کی طرح روتی ہوئی آنکھ بنا، جب کہیں یہ چھپی ہوئی آگ میرے سپرد ہوئی ۔

Mine eye fell to weeping, like dew, Since I was entrusted with that hidden fire.

2727

شمع را سوز عیان آموختم

خود نهان از چشم عالم سوختم

شمع کو تو میں نے کھلم کھلا جلنے کی تعلیم دی لیکن خود میں دنیا کی نظروں سے چھپ کر جلتا رہا ۔

I taught the candle to burn openly, While I myself burned unseen by the world's eye.

2828

شعله ها آخر ز هر مویم دمید

از رگ اندیشه ام آتش چکید

آخر میرے بدن کے روئیں روئیں سے شعلے پھوٹ پڑے، میرے فکر کی رگوں میں آگ ٹپکنے لگی ۔

At last flames breathed from every hair of me, Fire dropped from the veins of my thought.

2929

عندلیبم از شرر ها دانه چید

نغمه ی آتش مزاجی آفرید

میری بلبل نے چنگاریوں سے دانہ دنکا چنا، اس (بلبل) نے آگ کی فطرت کا حامل (آتشیں ) نغمہ پیدا کیا ۔

My nightingale picked up the spark-grains And created a fire-tempered song.

3030

سینه ی عصر من از دل خالی است

می تپد مجنون که محمل خالی است

میرے دور کے (افراد ملت کا) سینہ دل سے خالی ہے (کوئی صاحب دل نظر نہیں آتا) مجنون تڑپ رہا ہے کہ محمل خالی ہو گیا ہے ۔

Is the breast of this age without a heart? Majnún trembles lest Lailá's howdah be empty.

3131

شمع را تنها تپیدن سهل نیست

آه یک پروانه ی من اهل نیست

شمع کے لیے اکیلے جلتے رہنا آسان نہیں ، افسوس کہ میرا ایک بھی پروانہ اہل نہیں ہے ۔

It is not easy for the candle to throb alone Ah, is there no moth worthy of me?

3232

انتظار غمگساری تا کجا

جستجوی راز داری تا کجا

کسی غمگسار کا انتظار کرتا رہوں کب تک کسی رازدار کی تلاش میں دوڑتا پھروں

How long shall I wait for one to share my grief? How long must I search for a confidant?

3333

ای ز رویت ماه و انجم مستنیر

آتش خود را ز جانم باز گیر

اے (رب ذوالجلال) تو ، کہ تیرے رخ سے چاند ستارے روشنی حاصل کرتے ہیں اپنی آگ جو میری جان میں رکھی ہے اسے واپس لے لے ۔

O Thou whose face lends light to the moon and the stars, Withdraw thy fire from my soul!

3434

این امانت بازگیر از سینه ام

خار جوهر برکش از آئینه ام

میرے سینے سے یہ امانت واپس لے لیجیئے، میرے آئینے سے جوہر کا کانٹا نکال دیجیئے۔

Take back what Thou hast put in my breast, Remove the stabbing radiance from my mirror.

3535

یا مرا یک همدم دیرینه ده

عشق عالم سوز را آئینه ده

(اگر ایسا نہیں تو) پھر مجھے کوئی پرانا ساتھی ہی عطا کر، دنیا کو جلا دینے والے عشق کو آئینہ کر ۔

Or give me one old comrade To be the mirror of mine all-burning love!

3636

موج در بحر است هم پهلوی موج

هست با همدم تپیدن خوی موج

موج سمندر میں دوسری موج کے ساتھ مل کر چلتی ہے، باہم مل کر تڑپنا موج کی فطرت ہے ۔

In the sea wave tosses side by side with wave: Each hath a partner in its emotion.

3737

بر فلک کوکب ندیم کوکبست

ماه تابان سر بزانوی شب است

آسمان پر ایک ستارہ دوسرے ستارے کا ساتھی ہے، روشن چاند، رات کی گود میں سر رکھے رہتا ہے ۔

In heaven star consorts with star, And the bright moon lays her head on the knees of Night.

3838

روز پهلوی شب یلدا زند

خویش را امروز بر فردا زند

دن، تاریک اور طویل رات سے پہلو مارتا ہے، آج اپنے آپ کو آنے والی کل پر گراتا ہے ۔

Morning touches Night's dark side, And To-day throws itself against To-morrow.

3939

هستی جوئی بجوئی گم شود

موجه ی بادی ببوئی گم شود

ایک ندی کا وجود دوسری ندی میں گم ہو جاتا ہے، ہوا کا جھونکا کسی خوشبو میں گم ہو جاتا ہے ۔

One river loses its being in another, A waft of air dies in perfume.

4040

هست در هر گوشه ی ویرانه رقص

می کند دیوانه با دیوانه رقص

ویرانے کے گوشے میں رقص ہو رہا ہے، دیوانہ دوسرے دیوانے کے ساتھ ناچ رہا ہے ۔

There is dancing in every nook of the wine-house, Madman dances with madman.

4141

گرچه تو در ذات خود یکتاستی

عالمی از بهر خویش آراستی

اگرچہ تو اپنی ذات میں لا شریک ہے (لیکن پھر بھی) تو نے اپنی دلچسپی کے لیے ایک پوری کائنات سجا ڈالی ۔

Howbeit in thine essence Thou art single, Thou hast decked out for Thyself a whole world.

4242

من مثال لاله ی صحراستم

درمیان محفلی تنهاستم

میں صحرا کے گل لالہ کی مانند (تنہا) ہوں ، بھری محفل میں بھی تنہا ہوں ۔

I am as the tulip of the field, In the midst of a company I am alone.

4343

خواهم از لطف تو یاری همدمی

از رموز فطرت من محرمی

میں تیرے فضل و کرم سے ایک ایسے رفیق و غمگسار کا طالب ہوں جو میری فطرت کے رموز سے پوری طرح واقف ہو ۔

I beg of Thy grace a sympathising friend, An adept in the mysteries of my nature.

4444

همدمی دیوانه ئی فرزانه ئی

از خیال این و آن بیگانه ئی

وہ ایسا ساتھی ہو جو دیوانہ بھی ہو اور عقل مند بھی یعنی اسے دنیوی یا دنیاوی عزہ و جاہ سے کوئی سروکار نہ ہو ۔

A friend endowed with madness and wisdom, One that knoweth not the phantom of vain things.

4545

تا بجان او سپارم هوی خویش

باز بینم در دل او روی خویش

تاکہ میں اپنی عشق و محبت کی آگ اس کی جان کے حوالے کر دوں پھر اس کے دل میں اپنا چہرہ دیکھوں ۔

That I may confide my lament to his soul And see again my face in his heart.

4646

سازم از مشت گل خود پیکرش

هم صنم او را شوم هم آزرش

اپنی مٹھی بھر خاک سے اس کا جسم بناؤں ، پھر خود ہی اس کا بت بن جاؤں اور خود ہی اسے تراشنے والا بھی بن جاؤں ۔

His image I will mould of mine own clay, I will be to him both idol and worshipper.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سبز بادا خاک پاک شافعی

عالمی سر خوش ز تاک شافعی

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 18 - الوقت سیف

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور