رباعی شمارهٔ 222
Toggle stanza 1بر طرف قمر نهاده مشک و شکرش
11
بر طرف قمر نهاده مشک و شکرش
چکند که فقاع خوش نبندد به درش
22
در کعبهٔ حسن گشت و در پیش درش
عشاق همه بوسهزنان بر حجرش
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

