غزل شمارهٔ 5035

Toggle stanza 1
فارغ ز دار و گیر جهان خراب باش
1

فارغ ز دار و گیر جهان خراب باش

مردانه ترک کام بگو،کامیاب باش

2

این شعله های عاریتی نیست پایدار

چون لاله زآتش جگر خود کباب باش

3

خود را چو آفتاب نکردی به نور عشق

باری چو سایه در قدم آفتاب باش

4

قدر تو کم چرا بود از قدر دیگران؟

از خود زیاده از همه کس در حجاب باش

5

چشمت اگر به دولت بیدار می پرد

ازشورش درون، نمک چشم خواب باش

6

خواهی که بی حساب به جنت ترا برند

صائب نفس شمرده زن و خود حساب باش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…