غزل شمارهٔ 5072

Toggle stanza 1
از جا نمی روم چو سپند از نوای خویش
1

از جا نمی روم چو سپند از نوای خویش

آتش زنم به محفل و باشم به جای خویش

2

زان مطرب بلندنوا در ترانه ام

چون نی نمی زنم نفسی بر هوای خویش

3

زان ساقی خودم که نیابم درین جهان

مردی سزای باده مردآزمای خویش

4

چون نیست هیچ کس که به فریاد من رسد

خود رقص می کنم چو سپند از نوای خویش

5

صائب من آن بلند نوایم که می زنم

دربرگریز جوش بهار از نوای خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…