غزل شمارهٔ 5055

Toggle stanza 1
گردون که زهر می چکد از روی شکرش
1

گردون که زهر می چکد از روی شکرش

خون نقابدار بود شیر مادرش

2

هر ساده دل که شهد تمنا کند ازو

گردد زنیش، خانه زنبور پیکرش

3

بحر محیط اگر چه ز بزمش پیاله ای است

شبنم گداست دیده خورشید انورش

4

این تیغ آبدار که چرخ است نام او

از پیچ و تاب خسته دلان ایت جوهرش

5

صائب اگر چه با تو دم از دوستی زند

زهر نفاق می چکد از چشم اخترش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…