غزل شمارهٔ 5060

Toggle stanza 1
ازآب بازی مژه اشکبار خویش
1

ازآب بازی مژه اشکبار خویش

کردیم همچو دامن صحرا کنار خویش

2

راه سخن به محمل مقصود یافتیم

همچون جرس ز ناله بی اختیار خویش

3

ناموس دودمان حیا می رود به باد

چون گل مساز خنده رنگین شعار خویش

4

خون لاله لاله می چکد از چشم آفتاب

ترکرده ای زشبنم می تا عذار خویش

5

سنگ غرور بردهن جام جم زنیم

چون بشکنیم ازان لب میگون خمار خویش

6

سهل است کار دشمن خصم کینه جوی

غافل مشو ز دوستی دوستدار خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…