Toggle stanza 1
نهفته چون گنه از خلق دار طاعت خویش
1

نهفته چون گنه از خلق دار طاعت خویش

به اطلاع خدا صلح کن ز شهرت خویش

2

ز ارتکاب گنه نیست شرمگینان را

خجالتی که مراهست ازعبادت خویش

3

دهان سایل اگر پرگهر کنم چو صدف

چو ابر آب شوم ازقصور همت خویش

4

بهشت اگر ز در خانه ام گذار کند

قدم برون نگذارم ز کنج خلوت خویش

5

درین جهان پرآشوب اگر حضوری هست

ازان کس است که قانع بودبه قسمت خویش

6

گرت هواست که فرمانروا شوی صائب

مپیچ ازخط فرمان، سر اطاعت خویش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…