Toggle stanza 1
چمن برید به مقراض رشک، سنبل خویش
1

چمن برید به مقراض رشک، سنبل خویش

سرآمدی ز نکویان به زلف و کاکل خویش

2

اگر چه هست لبت بی نیاز از پرسش

بپرس حال مرا گاهی از تغافل خویش

3

فتادگی است که پشتش نمی رسد به زمین

به خصم خویش سوارم من ازتحمل خویش

4

کمینه حکم شهنشاه عشق این حکم است

که گل پیاده رود در رکاب بلبل خویش

5

چه نعمتی است درین راه پرخطر صائب

که بسته ایم گران، توشه توکل خویش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…