رباعی شمارهٔ 1010
Toggle stanza 1هرچند ملولی نفسی با ما باش
11
هرچند ملولی نفسی با ما باش
مگریز ز یاران و درین غوغا باش
22
یا همچو دلم واله و شیدائی شو
یا بهر نظاره حاضر سودا باش
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

