رباعی شمارهٔ 1011

Toggle stanza 1
ای دل برو از عاقبت اندیشان باش
1

ای دل برو از عاقبت اندیشان باش

در عالم بیگانگی از خویشان باش

2

گر باد صبا مرکب خود میخواهی

خاک قدم مرکب درویشان باش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…