رباعی شمارهٔ 1011
Toggle stanza 1ای دل برو از عاقبت اندیشان باش
11
ای دل برو از عاقبت اندیشان باش
در عالم بیگانگی از خویشان باش
22
گر باد صبا مرکب خود میخواهی
خاک قدم مرکب درویشان باش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

