رباعی شمارهٔ 1009
Toggle stanza 1هان ای دل تشنه، جوی را جویان باش
11
هان ای دل تشنه، جوی را جویان باش
بیپای میای و دایما پویان باش
22
با آنکه درون سینه بیکام و زبان
سرچشمهٔ هر گفت توی، گویان باش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

