رباعی شمارهٔ 1015
Toggle stanza 1ای سودائی برو پی سودا باش
11
ای سودائی برو پی سودا باش
در صورت شیدای دلت شیدا باش
22
با سایهٔ خود ز خوی خود در جنگی
خود سایهٔ تست خصم تو، تنها باش
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

