غزل شمارهٔ 264

شاعر: عرفی

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: نگیرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
کسی کو در تب عشق تو نبض خویشتن گیرد
1

کسی کو در تب عشق تو نبض خویشتن گیرد

ز عیب خود پرستی ، هر زمان، بر مرد وزن گیرد

2

دم عیسی بخنداند گل امید صیادی

که در فصل بهاران دام او مرغ چمن گیرد

3

مه کنعان به خواب است ، ای صبا، بر برهمن بگذر

که گرگی ناگهان دنبال بوی پیرهن گیرد

4

از آن با عشق هرگز التفاتی نیست تقوا را

که عاشق نکته با زاهد به کیش برهمن گیرد

5

زدم در گوشه ای تنها، که ریزم خون خود عرفی

مبادا وقت مردن ناشناسی دست من گیرد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…