غزل شمارهٔ 103

Toggle stanza 1
غمگساری در لباس دشمنی محبوبی است
1

غمگساری در لباس دشمنی محبوبی است

خشم و ناز آرایش بیرون و بزم خوبی است

2

گر به سختی درد من ظاهر شود کاین اضطراب

هم ترازوی متاع طاقت ایوبی است

3

از هوس آزادم اما آن چه دل را می گزد

اشتیاق یوسفی و گریه ی یعقوبی است

4

سدره ی آب و گلم پژمرده می گردد، ولی

در نهادم شعله را نشو نمای طوبی است

5

شرح درد ما نباشد گفتن، ای عرفی خموش

زحمت قاصد مده کاین داستان مکتوبی است

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…