غزل شمارهٔ 102
شاعر: عرفی
Toggle stanza 1مدار صحبت ما بر حدیث زیر لبی است
11
مدار صحبت ما بر حدیث زیر لبی است
که اهل هوش عوام اند و گفتگو عربی است
22
قبول خاطر معشوق شرط دیدار است
به حکم شوق تماشا مکن که بی ادبی است
33
نکاح دختر رز بود دوش با عرفی
هنوز قاضی شهرش در رطبی است
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

