غزل شمارهٔ 102

شاعر: عرفی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: بیاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
مدار صحبت ما بر حدیث زیر لبی است
1

مدار صحبت ما بر حدیث زیر لبی است

که اهل هوش عوام اند و گفتگو عربی است

2

قبول خاطر معشوق شرط دیدار است

به حکم شوق تماشا مکن که بی ادبی است

3

نکاح دختر رز بود دوش با عرفی

هنوز قاضی شهرش در رطبی است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…