Toggle stanza 1
جان تشنگی از شربت عناب تو دارد
1

جان تشنگی از شربت عناب تو دارد

دلبستگی از سنبل پرتاب تو دارد

2

شبها همه بیدار بود مردم چشمم

تا چشم بر آن نرگس پر خواب تو دارد

3

چون دفتر گل باز کند مرغ سحر خوان

شرح شکن طره پرتاب تو دارد

4

مسکین چه کند بر گل صد برگ نیازی؟

گر دست دگر نی همه از ناب تو دارد

5

در عشق نماز آنکه درو نیست نیازی

سر بر خط ابروی چو محراب تو دارد

6

خورشید جهانتابی و من ذره خاکی

هر ذره سرگشته کجا تاب تو دارد؟

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…