Toggle stanza 1
گر او بی یاد ما در می نیفتد
1

گر او بی یاد ما در می نیفتد

فراموشیش پی در پی نیفتد

2

نصیحت می کنم دل را که بازآی

ولیکن دل ازینها پی نیفتد

3

بریزم خون خود بر آستانت

اگر چه از رخت هر پی نیفتد

4

گهی بر من نیفتد چشم مستت

نگویی با منت تا کی نیفتد

5

درآمد عشق و تقوی خانه بگذاشت

که زهد و توبه را با می نیفتد

6

چه پرسی با تن و جانی پر از درد؟

همان دان آتش اندر نی نیفتد

7

اگر چ افتاد خسرو زو به صد رنج

خدایا، رنج من بر وی نیفتد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…