Toggle stanza 1
خطی از لعل جانان می برآید
1

خطی از لعل جانان می برآید

که دود از روزن جان می برآید

2

سر زلفش بنفشه دسته بسته

ز اطراف گلستان می برآید

3

برآمد ماه تابان در شب اینجا

شبی از ماه تابان می برآید

4

ز کافور تو سنبل می زند سر

ز یاقوت تو ریحان می برآید

5

مسلمانان، نگهدارید خود را

که کفر کج ز ایمان می برآید

6

دل خسرو در آن زلف است دانم

از آن خاطر پریشان می برآید

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…