Toggle stanza 1
ز ایام خرمی نفس دیگرم نماند
1

ز ایام خرمی نفس دیگرم نماند

جز فقر و نیستی هوس دیگرم نماند

2

سبحه به کف شمار بدیهای خود کنم

بیرون ز سبحه دسترس دیگرم نماند

3

جز وایه های طبع که آسودگیم برد

در خواب زحمت مگس دیگرم نماند

4

برباد رفت هستی خود رسته نفس من

در راه فقر خار و خس دیگرم نماند

5

کوتاه کردم از همه کس دست التماس

جز سر فقر ملتمس دیگرم نماند

6

آن طایرم که مانع طوف ریاض قدس

جز چارچوب تن قفس دیگرم نماند

7

من جامیم به ناکسی خویش مبتلا

پروای ناکسی کس دیگرم نماند

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…