غزل شمارهٔ 280

شاعر: جامی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اع

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
مجلسی خواهم تهی از صلح و خالی از نزاع
1

مجلسی خواهم تهی از صلح و خالی از نزاع

اهل وحدت کرده در وی نقش کثرت را وداع

2

ساقیان از یک طرف پر ساخته جام شراب

مطربان از یک طرف برداشته دور سماع

3

تنگدستان را میسر دولتی بی انتظار

می پرستان را مهیا عشرتی بی انقطاع

4

می بود خورشید و ساغر ماه در دور فلک

کس ندیده ست اینچنین خورشید و مه را اجتماع

5

چون نهم خورشید نام می که در وقت طلوع

صد چو خورشیدش نماید مضمحل تحت الشعاع

6

خوش سطرلابیست پیمانه که بی وی کم گرفت

از حضیض خم کسی خورشید می را ارتفاع

7

جامی از فقر و فنا بر دوش دارد خرقه ای

کش طراز آستین لایوهب است و لایباع

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…