غزل شمارهٔ 279
Toggle stanza 1جبین نظم حسن رخت راست مطلع
11
جبین نظم حسن رخت راست مطلع
دو ابرو ز مطلع فروتر دو مصرع
22
چنان می درخشد زبرقع جمالت
که شد رشته نور هر تار برقع
33
فتد بخیه بر رو چو از پرده پوشی
نزد شیخ ما وصله ای بر مرقع
44
غمت در دلم تخم عیش ابد شد
بلی این سراآن سرا راست مزرع
55
به میخانه گر قالبم خشت گردد
روم بر سر خم نشینم مربع
66
چو جمعیت آباد دلهاست زلفت
به هر حلقه جمعی نگر کرده مجمع
77
به زلف تو قطع سخن کرد جامی
کم افتد غزل را بدین لطف مقطع
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

