Toggle stanza 1
هر جان که به نور قدس پیش اندیش است
1

هر جان که به نور قدس پیش اندیش است

از خویش برون نیست همه در خویش است

2

یک ذرّه خیالِ غیر در باطن تو

تخم دو هزارکوه آتش بیش است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…