Toggle stanza 1
تا کی خود را ز پای و سراندیشی
1

تا کی خود را ز پای و سراندیشی

پیش و پس و زیر و هم زبر اندیشی

2

چون جمله یکیست هرچه میبینی تو

مشرک باشی گر دگری بر اندیشی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…