شمارهٔ 69
Toggle stanza 1چون نیست ترا کار ز سودا بیرون
11
چون نیست ترا کار ز سودا بیرون
زان افتادی ز پرده شیدا بیرون
22
ای قطرهٔ افتاده به صحرا بیرون
از بهر چه آمدی ز دریا بیرون
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

