Toggle stanza 1
از تیرِ غمت بسی جگر دوخته‌ای
1

از تیرِ غمت بسی جگر دوخته‌ای

بر مشک خطت بسی جگر سوخته‌ای

2

مگذار که خطّ تو ز دستم بشود

چون دست مرا بدان خط آموخته‌ای

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…