Toggle stanza 1
زین خط که لعل تو کنون می‌آرد
1

زین خط که لعل تو کنون می‌آرد

دل خود که بود که جان جنون می‌آرد

2

سبزی خط تو سرخ‌رویی من است

کان سبزه مرا خطّ به خون می‌آرد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…