شمارهٔ 7
Toggle stanza 1زین خط که لعل تو کنون میآرد
11
زین خط که لعل تو کنون میآرد
دل خود که بود که جان جنون میآرد
22
سبزی خط تو سرخرویی من است
کان سبزه مرا خطّ به خون میآرد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

