Toggle stanza 1
بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو
1

بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

که نیرزد به جوی اینهمه دیرینه و نو

مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔

Eschew the West, and do not be bewitched by Europe’s wizardry; not worth barley, in my view, is all her ancient and her new.

2

چون پرکاه که در رهگذر باد افتاد

رفت اسکندر و دارا و قباد و خسرو

راہ میں پڑے ہوئے گھاس کے بے کار تنکے کی مانند یونان کا سکندر، ایران کا درا ، قیقباد اور خسرو جیسے عظیم فرمانروا اڑ گئے ۔ (دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہا ۔ خواہ وہ کتنا ہی طاقتور تھا ۔ دنیا میں صرف ازلی و ابدی اصول ہی باقی رہیں گے) ۔

Mighty Darius, Iskandar, Khusrau and Kaikobad – all are a blade of grass upon the way swept by a passing wind, to-day.

3

زندگی انجمن آرا و نگهدار خود است

ایکه در قافله ئی بی همه شو با همه رو

زندگی انجمن آراستہ کرنے والی اور اپنی حفاظت خود کرنے والی ہے ۔ اے وہ شخص جو اس کاروان زندگی میں شامل ہے سب کارواں کے ساتھ چل، لیکن اپنی منفرد حیثیت بھی برقرار رکھ ۔

Life is the self to beautify, to guard the self right jealously; upon a caravan thou art – fare on with all, but go apart!

4

تو فروزنده تر از مهر منیر آمده ئی

آنچنان زی که بهر ذره رسانی پرتو

اے انسان تو روشن اور روشنی دینے والے سورج سے بھی زیادہ روشن ہے ۔ تو اس طرح زندگی بسر کر کہ تیری روشنی سے ہر ذرہ چمک اٹھے ۔

Radiant thou camest from the sky, far brighter than the sun on high; so live, that every mote may be illumined by thy brilliancy.

5

آن نگینی که تو با اهرمنان باخته ئی

هم به جبریل امینی نتوان کرد گرو

اس نگیں (دل) کو جسے تو شیطانوں کے پاس ہار چکا ہے ۔ اسے تو جبریل امین کے پاس گروی بھی نہیں رکھا جا سکتا (تو نے اپنے دل کی قدر نہیں کی) ۔

Thou hast not spared thy precious ring idly to Ahriman to fling – to pledge the which it were not well even to trusty Gabriel.

6

از تنک جامی ما میکده رسوا گردید

شیشه ئی گیر و حکیمانه بیاشام و برو

میرے پیالے کی تنگ دامنی سے شراب خانہ کی رسوائی ہو گئی ۔ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید شراب خانے ہی میں شراب کم ہو گئی ہے ۔ (حالانکہ شراب خانے میں تو شراب کی کمی نہ تھی میرا ہی ظرف تنگ تھا) ۔ اب بھی وقت ہے مٹکا اٹھا کر عقل مندوں کی طرح پی کر شراب خانے سے جا (کیونکہ شراب حقیقت تو میکشوں کے ظرف کے مطابق ہی پلائی جاتی ہے) ۔

The tavern is ashamed, because so narrow is become our glass; a beaker take, and prudently drink wine – and then be off with thee!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور