رباعی شمارهٔ 156

تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے

You claim that I exist, and God does not preside

Toggle stanza 1
تو می گوئی که من هستم خدا نیست
1
تو می گوئی که من هستم خدا نیست
جهان آب و گل را انتها نیست

تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے —

یہ دنیا لا انتہا ہے (یہ کبھی ختم نہیں ہو گی)۔

You claim that I exist, and God does not preside —

That this world of clay and water has no end in sight.

2
هنوز این راز بر من ناگشود است
که چشمم آنچه بیند هست یا نیست

مگر مجھ پر ابھی تک یہ راز ہی نہیں کھلا —

کہ میری آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ ہے بھی یا نہیں!

Yet this mystery remains, a secret tightly wound —

Is what my eyes behold truly there, or mere illusion found?

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور