رباعی شمارهٔ 131
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا
Thus spoke the new-sprung blossom to the dew:
Toggle stanza 1به شبنم غنچهٔ نورسته می گفت
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا —
ہم چمن میں پیدا ہونے والوں کی نگاہ حقیقت تک نہیں پہنچتی ( تو جو آسمان سے ٹپکتی ہے تو ہمیں بتا)۔
Thus spoke the new-sprung blossom to the dew: —
‘We meadow children have no piercing eye:
کہ اس وسعت میں جہاں سینکڑوں سورج ہیں —
پست و بالا کا فرق ہے یا نہیں ہے۔
In this broad plain that holds a hundred suns —
Class distinction exists between low and high?’
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
نگارا، روز عیش و شادمانیست
هوای سبزه و صوت و اغانیست
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 161
طریق عشق جانا بی بلا نیست
زمانی بی بلا بودن روا نیست
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 104
اناالحق جز مقام کبریا نیست
سزای او چلیپا هست یا نیست
علامہ اقبالارمغان حجازحضور ملتبخش 3 - انا الحق
تو می گوئی که من هستم خدا نیست
جهان آب و گل را انتها نیست
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 156
آڈیو
صداکار منتخب کریں

