رباعی شمارهٔ 49

عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں

Reason has woven veils over your face

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ارم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
1
خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
نگاهی تشنهٔ دیدار دارم

عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں —

اور میری نگاہیں دیدار کی پیاسی رہتی ہیں ۔

Reason has woven veils over your face —

Yet my gaze remains thirsty for a glimpse of Your grace.

2
در افتد هر زمان اندیشه با شوق
چه آشوب افکنی در جان زارم

ہر لمحہ عقل اور شوق میں جنگ رہتی ہے —

تو نے میری گری پڑی کمزور جان میں کیسا فتنہ ڈال رکھا ہے ۔

In every moment, a battle rages between thought and desire —

What turmoil You've cast in my soul, a fragile, smoldering fire.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور