رباعی شمارهٔ 51

تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے

Why inquire the tie 'tween spirit and body's lair?

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ایم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
ز پیوند تن و جانم چه پرسی
1
ز پیوند تن و جانم چه پرسی
به دام چند و چون در می نیایم

تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے —

میں کیا اور کیسے کے دام میں نہیں آتا۔

Why inquire the tie 'tween spirit and body's lair? —

In the maze of "How" or "Why," I wander not, nor care.

2
دم آشفته ام در پیچ و تابم
چو از آغوش نی خیزم نوایم

بکھری سانس ہوں، لیکن الجھتی بل کھاتی —

بانسری کے آغوش سے نکلتے ہی میں نغمہ دم آواز ہوں ۔

Scattered breath I am, in entwined coils I'm bound —

Yet, as I leave the reed’s embrace, I become a melodious sound.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور