بخش 7 - گهی شعر عراقی را بخوانم

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 9

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
گهی شعر عراقی را بخوانم
1

گهی شعر عراقی را بخوانم

گهی جامی زند آتش به جانم

اقبال فارسی شعرا فخر الدین عراقی اور عبدالرحمٰن جامی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کبھی میں عراقی کے شعر پڑھتا ہوں ، کبھی جامی کے شعر میری جان میں آگ لگا دیتے ہیں ۔

A page of Iraqisometimes I turn, From Jami’sfire so often I burn.

2

ندانم گرچه آهنگ عرب را

شریک نغمه‌های ساربانم

اگرچہ میں عرب کے گیتوں کی لے نہیں جانتا لیکن ساربان کے نغموں میں شریک ہوتا ہوں ۔

I know not though the Arabs’ tune, I share with joy the teamaster’s tune.

بند 2
Toggle stanza 2
غم راهی نشاط آمیزتر کن
3

غم راهی نشاط آمیزتر کن

فغانش را جنون انگیزتر کن

راہی کے غم کو زیادہ خوشی عطا کر، اس کی فریاد کو زیادہ جنون عطا کر ۔

Let the hiker’s grief take a blissful turn, Let wails be blessed with rapturous burn.

4

بگیر ای ساربان راه درازی

مرا سوز جدائی تیز تر کن

اے اونٹنی کی مہار پکڑ کر چلنے والے (مدینہ منورہ پہنچنے کے لیے) لمبا راستہ اختیار کر ، میری جدائی کی تپش کو مزید بڑھا دے ۔

O teamaster be ready for longer course, Let separation pangs had sharper force.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں