وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
ہلال عید
پھول کی خوشبو
کبر و ناز
لالے کا پھول
Life
ملک اللہ کا ہے
پانی کی نہر
تلوار کی پہیلی
Love
تہذیب
آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔
تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔
سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔
ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔
Schopenhauer and Nietzsche
Nietzsche
Bergson’s Message
Poets
Division Between the Capitalist and the Labourer