بخش 32 - زندگی

Life

Toggle stanza 1
پرسیدم از بلند نگاهی حیات چیست
1

پرسیدم از بلند نگاهی حیات چیست

گفتا مئی که تلخ تر او نکوتر است

میں نے ایک بلند نگاہ سے پوچھا زندگی کیا ہے؟ بولا ایسی شراب جو جتنی تلخ ہو، اچھی ہے۔

I asked a lofty sage what Life might be. ‘The wine whose bitterest cup is best’, said he.

2

گفتم که کرمک است و ز کل سر برون زند

گفتا که شعله زاد مثال سمندر است

میں نے کہا زندگی تو کیڑا ہے جس نے مٹی میں سے سر اٹھایا ہے، کہنے لگا (نہیں) یہ تو سمندر کی مانند شعلہ سے پیدا ہوئی ہے۔

Said I, ‘A vile worm rearing head from mire.’ Said he, ‘A salamander born of fire.’

3

گفتم که شر بفطرت خامش نهاده اند

گفتا که خیر او نشناسی همین شر است

میں نے کہا: اس کی خاموش فطرت کے اندر شر رکھا گیا ہے، کہنے لگا کہ تو سمجھتا نہیں اسی شر میں اس کی بھلائی ہے۔

‘Its nature steeped in evil’, I pursued. Said he, ’Tis just this evil makes it good.’

4

گفتم که شوق سیر نبردش بمنزلی

گفتا که منزلش بهمین شوق مضمر است

میں نے کہا: سیر کا شوق اسے کسی منزل تک نہیں پہنچنے دیتا، وہ کہنے لگا: اسی شوق میں اس کی منزل مضمر ہے۔

‘It winds not to the goal, though it aspire.’ ‘The goal’, said he, ‘lies hid in that desire.’

5

گفتم که خاکی است و بخاکش همی دهند

گفتا چو دانه خاک شکافد گل تر است

میں نے کہا کہ یہ خاکی ہے اور اسے خاک ہی میں دفن کر دیا جاتا ہے، کہنے لگا: جب دانہ خاک کو پھاڑتا ہے تو گلِ تر بن جاتا ہے۔

Said I, ‘Of earth it comes, to earth it goes.’ Said he, ‘The seed bursts earth, and is the rose.’

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور