صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
شہرِ عشق میں کہ جہاں کی مٹی درد آشنا ہے اس کے ذرے ذرے میں پاک جان انوار الہٰی کو دیکھا جا سکتا ہے (عاشق کے رگ و پے میں سوزِ عشق پایا جاتا ہے) ۔
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔
پرانی شراب جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے اور جوان معشوق اہل نظر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اللہ کے ولیوں کی نظر میں حور اور جنت کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ان باتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں ) ۔
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
قلندر جو کہ اپنے خاکی جسم اور مادی جہان کی تسخیر میں مصروف رہتے ہیں وہ اگرچہ بوریا نشین ہوتے ہیں پھر بھی بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔ بادشاہوں کے تخت ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔
میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔
میں دونوں ہاتھوں سے چلانے والی تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے بے نیام کر دیا (قدرت نے باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بے نیام کیا ہے) اور مجھے سان پر چڑھا کر زمانے پر چلا دیا ۔
(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔
میں ذرے کو چنگاری کی طرح تن گرم کرنے کا طریقہ دیتا ہوں ۔ اور اس بہانے میں دراصل اسے اڑنے والے پر عطا کرتا ہوں ۔ میرے کلام میں بے سوز شخص میں گرمیَ عشق پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور گرمیَ عشق اسے آسمان کی بلندیوں کی طرف جا نے کے طریقے بتاتی ہے ۔
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔
خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔
میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔
قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔
ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔
اس صحرا (مسلمانوں ) میں شاید کسی قافلے کا گزر ہوا ہے بہت مدت بعد میں نے ساربانوں کے گیت سنے ہیں ۔ قوم کی اصلاح کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔
اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی امید اہلِ یورپ سے رکھتا ہے ۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لیے نہیں جلتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ (جس طرح شکاری اپنے شکار پر رحم نہیں کھاتا اسی طرح اہلِ یورپ بھی اپنی سنگدلی کی بدولت محکوم اقوام پر رحم نہیں کھاتے ۔ اس لیے اہل یورپ سے محکوم لوگوں کو رحم کی امید نہیں رکھنی چاہیے) ۔
مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔
یہ جہان جو رنگ اور خوشبووَں سے بھرپور ہے ۔ لیکن تو اس جہان رنگ و بو کو ایک راز کہتا ہے ایک دفعہ خود کو اس کے تاروں پر لگا تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو مضراب ہے اور یہ جہان ایک ساز ہے ۔ تیرے مضراب کے بغیر سازِ جہاں میں نغمگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔
محبوب کی جدائی کے زخموں سے دل کا چمن آباد ہے ۔ اے لالہ صحرائی میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں (تجھے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہوں ) ۔
یہ دنیا بھی ایک جہان ہے اور وہ آخرت بھی ایک جہان ہے ۔ اس کا بھی کوئی کنارہ نہیں اور یہ بھی بے کنار ہے ۔
بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔
وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔
اس پرانے بوڑھے کو پھر سے جوان ہونا چاہیے اور اسکے تنکے کو بھاری پہاڑی کی مانند ہونا چاہیے (یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی خودی سے آشنا ہو) ۔
اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔
اس دیرپا (صدیوں سے موجود) مندر میں ہنگامے کس نے پیدا کئے ہیں کہ اس مندر کے زناری (دنیا دار لوگ) سب کے سب بانسری کی مانند رو رہے ہیں (دیر پا مندر سے مراد یہ دنیا ہے جہاں ہر آدمی مضطرب و بے چین ہے) ۔
باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔
میں تو ایک آزاد انسان ہوں اور عشق میرا رہبر ہے ۔ عشق میرا رہبر ہے تو عقل میری غلام ہے ۔
کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔
میں اب اپنے آپ ہی کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ اب مندر اور مسجد دونوں ہی باقی نہیں رہے ۔ مسجد عرب میں نہیں رہی اور مندر عجم میں موجود نہیں ۔ (نہ تو مسجد ہی رہبری کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور نہ ہی مندر میں کوئی راہنما موجود ہے تو پھر اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں کہ میں صرف اپنے ضمیر کی پیروی کروں ) ۔