صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
کتاب زبور کے قاری سے خطاب
Part One
دُعا
یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔
(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔
ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔
زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)
چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔
لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔
اے خدا تو نے میری آہ و زاری کو میری شاعری کی وجہ سے بڑھا دیا ہے ۔ میری اس آواز سے ہزاروں سال کی پرانی مٹی کو زندہ کر دے ۔ مطلب یہ کہ مسلمان اس مادہ پرست دنیا میں گم ہو کر اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔ وہ اپنی پہچان صرف اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے دل میں تیری محبت پیدا ہو جائے ۔
(اے انسان) اگر تو محبت کے سمندر میں رہتے ہوئے ساحل کی تمنا کر رہا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تو ہزاروں شعلے دے کر ایک چنگاری حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔
یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔
میں اگرچہ سیاہ مٹی ہوں یعنی ایک خاکی جسم ہوں لیکن اس خاکی جسم کے اندر جو ایک چھوٹا سا دل ہے وہی میرا سازوسامان ہے ۔ یہ دل جب روشن ہو جاتا ہے تو سارا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اے خدا میں تیرے حسن کے نظارہ کے لیے ایک ستارے کی طرح آنکھیں کھلی رکھتا ہوں ۔
میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔
میں نے اپنی دردمند اور دل پذیر آواز یعنی شاعری کے ذریعے زندگی کی شراب کا مٹکا دنیا کے لیے کھول دیا ہے یعنی جذبہَ عشق ان لوگوں تک پہنچا دیا ہے جو اس سے آشنا نہیں تھے ۔
عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔
اے خدا اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام نچھاور کر اور اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹا دے ۔ کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیے ہے ۔ جب تیرے چہرے کے انوار و تجلیات مومن دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہو گا اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے
میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔
میری فریاد سوزِ غم سے بھری ہوئی ، بے خوف اور غم اُبھارنے والی ہے ۔ کیونکہ میرے حسن و خاشاک میں چنگاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے ۔ (اس تیز ہوا سے آگ بھڑک اٹھے گی اور مجھے ہر آلائش سے پاک کر دے گی) ۔
اس چمن کے لالہ کا پھول (مسلمان) ابھی زنگ آلودہ ہے ۔ (ابھی مسلمان دنیا کی آلائشوں میں پھنسا ہوا ہے) اس لیے اپنے ہاتھ سے ابھی ڈھال مت رکھ کہ جنگ ابھی جاری ہے (اہل ایمان کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی) ۔
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
(حق پھیلانے اور اس کی مدافعت کے لیے) کبھی کبھی دلیل اور اعجاز بیان پر بھی بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی حق کا قیام تلوار اور نیزے کی طاقت سے بھی لیا جاتا ہے ۔
اگرچہ عقل کا شاہین اڑان کے لیے تیار ہے لیکن اس بیابان میں ایک تیر انداز بھی پوشیدہ ہے جو اسے آسانی سے شکار کر لیتا ہے ۔ عشق کی جہاں تک رسائی ہوتی ہے وہاں عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔
(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔
سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔
جب بہار کا موسم اتنا دلکش ہو اور بلبلیں گیت گا رہی ہوں تو ایسے میں تو بھی (اے محبوب) اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس خوشگوار ماحول کے مطابق شراب وصل پلا دے ۔
میں تو (صرف حقیقی مالک) سلطا ن سے نگاہِ کرم کی امید رکھتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا مسلمان ہوں اور مسلمان کبھی مٹی کے معبود نہیں بناتا(مٹی کے معبودوں کی پوجا نہیں کرتا) ۔
مجھے موت و حیات کی کشمکش سے میرا مقامِ رضا باہر نکال لایا ۔ میرے اس مقام رضا نے میرے کیسے کیسے مسائل حل کر دیے ہیں ۔
(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔
اٹھ اور پیاسی مٹی (آدمی کے خاکی جسم) پر زندگی کی شراب چھڑک دے کیونکہ اس خاکی جسم کے لیے عشق کی شراب تریاق کا کام دے گی ۔ اے خدا تو اپنے عشق کی آگ اس جسم خاکی میں تیز کر دے اور میرے نفس کی آگ ٹھنڈی کر دے ۔
ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔
مجھے مصروفِ طواف کعبہ دیکھ کر اگر تو یہ سمجھ رہا ہے کہ شاید طواف کعبہ ہی میرا اصل مقصد ہے تو تیرا یہ گمان غلط ہے ۔ میرا اصل مقصد تو خدا کا قرب حاصل کرنا ہے طواف کعبہ تو صرف ایک ذریعہ ہے ۔
فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔
میرا محبوب گھوڑے پر سوا ہو کر راستہ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والے عشاق پر نظر ڈالے بغیر گزر رہا ہے ۔ اے دوستو! مجھ تھام لو کہ میرا دل اب میرے قابو میں نہیں رہا (شراب عشق کے باعث مجھ پر نشہ طاری ہو رہا ہے) ۔
وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔
آسمان تک رسائی حاصل کرنے والی عقل پر ترکوں کی طرح شبخون مارنا ہی اچھا ہے یعنی اسے عشق کے آگے سرنگوں کرنا ضروری ہے کیونکہ دردِ عشق کا ایک ذرہ عظیم فلسفی افلاطون کے علم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
عقل بھی عشق کی مانند ہے اور وہ ذوقِ نظر سے انجان نہیں ہے ۔ لیکن اس بے چاری کے پاس وہ ہمت و دلیری نہیں جو عشق کو حاصل ہے ۔
ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔
اس زندگی میں حرارت و گداز تیری تلاش کی لذت کے باعث ہے ۔ اگر میں تیری طرف سفر اختیار نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے ۔
(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔
اس بزم ِ جہاں میں ساقی رہے اور نہ ہی میکش اس کا کام شراب و ساقی سے گزر گیا ہے ۔ ایسا دوست اب کہاں ہے کہ میں بچی ہوئی شراب اس کے جام میں انڈیل دوں ۔ مجھے تو کوئی اپنے اسلاف کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا ۔
میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔
اے ساقی میرے جگر پر نم آلود شعلہ پھینک ۔ یعنی مجھے شراب عشق پلا کر میرے اس مٹھی بھر جسم میں اپنے عشق کا شور قیامت بر پا کر دے ۔
میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔
اے خدا مجھے اس پانی (شرابِ عشق) سے صراحی یا بڑا پیالہ عطا کردے جو میرے سینے میں لالہ کے پھول کھلا دے ۔ یعنی وہ شراب عشق جو میرے دل میں امنگوں کو بیدار کر دے ۔ اے ساقی دوراں میرے اس مٹھی بھر جسم کو بہار کی ہوا کے سپرد کر دے تاکہ میری ذات سے دوسروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔
میرے میکدے کی شراب میں ایرانی افکار و خیالات نہیں پائے جاتے ۔ میری اس عجمی صراحی یعنی فارسی شاعری میں جو شراب ہے وہ میرے جگر کا لہو ہے ( میں نے یہ خیالات کسی سے مستعار نہیں لیے) ۔
میں ہر اس برے نقش سے پاک ہو کر آیا ہوں جو دل پر آنکھوں کے ذریعے ابھرتا ہے ۔ میں پاکیزہ فطرت رکھتا ہوں اور تیرے پاس ہر فکر اور خیال سے آزاد ہو کر آیا ہوں یعنی میرا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے ۔
میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔