به خوانندهٔ کتاب زبور

کتاب زبور کے قاری سے خطاب

To the Reader

Toggle stanza 1
می‌شود پردهٔ چشمم پر کاهی گاهی
1
می‌شود پردهٔ چشمم پر کاهی گاهی
دیده‌ام هردو جهان را به نگاهی گاهی

کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ گھاس کا معمولی سا تنکا بھی میری آنکھ کے اجالے کو کم کر دیتا ہے اور کبھی میں نے اپنی نگاہوں سے دونوں جہانوں کا مشاہد کیا ہے ۔ ظاہری آنکھ سے قدرت کے مظاہر کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ باطنی نگاہ ہی ہے جس میں فطرت کے ظاہری اور باطنی حسن کو پرکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور صلاحیت صرف بندگانِ خدا یعنی اولیاَ اور صوفیا َ میں پائی جاتی ہے ۔

A straw, at times, becomes the screen of my eye; And with one look, at times, I have seen both the worlds.

2
وادی عشق بسی دور و دراز است ولی
طی شود جادهٔ صدساله به آهی گاهی

وادی عشق بہت طویل اور دشوار گزار ہے اسے طے کرنا آسان نہیں ۔ لیکن جب دل میں عشقِ حقیقی بیدار ہو جاتا ہے تو صرف ایک آہ ِ عاشقانہ سے سلوک کی منزل طے ہو جاتی ہے اور برسوں پر محیط سفر لمحوں میں طے ہو جاتا ہے ۔ منزلِ عشق ہزارہا ریاضتوں کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتی ۔ دل کی تڑپ ہی اس کے حصول کا اصل ذریعہ ہے ۔

The Valley of Love is a long way away, and yet, at times, The journey of a hundred years is covered in a sigh.

3
در طلب کوش و مده دامن امید ز دست
دولتی هست که یابی سر راهی گاهی

تو بھی ہر وقت کوشش کرتا رہ اور امید کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑ ۔ خودی ایک ایسی دولت ہے جو سرِ راہ بھی حاصل ہو سکتی ہے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کوشش میں مگن اور سچائی ہو ۔ منزل و مراد کی طرف قدم بڑھاتا جا ۔ کوئی نہ کوئی سچا رہبر تجھے تیری منزل کا راستہ بتا ہی دے گا ۔

Persist in your search, and do not let go of the hem of hope- There is a treasure that, at times, you will find by the way.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور