صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میرے بے قابو دل نے (جس کا ایمان پختہ نہیں تھا) نورِ ایمان کے ساتھ ارتکاب کفر کیا ہے ۔ اسی وجہ سے میری حالت یہ ہے کہ میں سجدہ ریز تو خدا کے حضور ہوں لیکن غلامی بتوں کی کر رہا ہوں ۔ میرا دل خدا پر ایمان لانے کے باوجود دنیا کی آلائشوں سے پاک نہیں ہے ۔
میں نے اپنی شاعری میں (روایت سے ہٹ کر) باتیں کی ہیں ۔ کوئی بھی یہ باتیں پسند نہیں کرتا ۔ میرے جلوے یعنی مضامین کا خون بہہ گیا اور ایک بھی نگاہ اس کے نظارے کے لیے نہ پہنچی ( میں نے ایسے ایسے نئے مضامین پیدا کئے ہیں جنھیں لوگ پڑھنا گوارا نہیں کرتے) ۔
اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔
اسے عاشق نہیں کہتے جو اپنے لبوں سے نالہ و شیون کرتا ہے ۔ بلکہ عاشق تو وہ ہے جو دونوں جہان اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے (سچا عاشق نالہ و فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے عشق سے دنیا پر حکمرانی کرتا ہے) ۔
میری حالت یہ ہے کہ نہ تو میرے اندر کفر اور ایمان کی جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی اپنی جان جنت کے باغ کی آرزو میں غموں کے حوالے کرتا ہوں ۔
اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔
(اے ربِ کائنات) ایک خوش الحان پرندہ ہو یا شکار کرنے والا ایک باز ۔ دونوں تیری ہی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ اس زندگی میں نو ر اور نار کے جو راستے نظر آتے ہیں وہ بھی تیری ہی تخلیق ہیں (ہر چیز میں تیرے ہی جلوے نمایاں ہیں ) ۔
ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔
ہزار ہا قسم کی نیکی اور پارسائی سے عاشقی کے راستے پر ایک قدم رکھنا بہتر ہے ۔
سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
میرے دل کی جہان پر اس کی حملہ آوری کے انداز تو دیکھو ۔ اور مجھے مارنے اور جلانے کے بعد مجھے بنانے اور سنوارنے کا عمل بھی دیکھو ۔ مطلب یہ کہ اس کا مارنا اور جلانا میری بہتری کے لیے ہے ۔
اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔
ابھی تک راہِ طلب میں میرا بوجھ کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ دل میں طلب تو ہے لیکن سامانِ سفر موجود نہیں ۔ کیونکہ میں تو کارواں ، سامانِ سفر اور منزل کے تصورات میں ہی الجھا ہوا ہوں ۔ حالانکہ منزلِ عشق کے لیے مادی اسباب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔
اس دنیا کی خوشی اور خاموشی کی پرواہ کیے بغیر زندہ دلی سے وقت گزارے (زندگی کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرے) اور تیرے راستے میں جو چیز بھی آئے اس سے مسکراتے ہوئے گزر جا ۔
موسم سرما ختم ہو گیا ہے اور درختوں کی شاخوں پر نئے گیت زندہ ہو گئے ہیں ۔
زندگی کا فلسفہ اپنی سیپ کے اندر موتی بنانا ہے ۔ شعلہ کے دل میں اتر جانا ہے اور اس آگ عشق میں پگھلنا نہیں (بلکہ اس مٹی کو کندن بنانا ہے) ۔
مجھے گھر کی آرزو ہے اور نہ منزل کی ۔ میں تو ہر شہر میں ایک اجنبی کی طرح گزرتا ہوں اور راستے میں بھٹک رہا ہوں (اہل عشق کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا) ۔
میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔
میں تو ساقی میکدہ کی مست آنکھوں سے شراب پی کر مست ہو گیا ہوں میں (ظاہری) شراب پئے بغیر ہی نشہ میں چور ہوں ۔ نشہ میں چور ہوں ۔
میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔
اے میرے محبوب! تو نے اپنے رخ روشن سے میری رات کو صبح میں بدل دیا ہے ۔ چونکہ تو آفتابی چہرہ رکھتا ہے اور آفتاب کا کام دنیا کو روشنی عطا کرنا ہے ۔ اس لیے تو بھی میرے سامنے بے حجاب ہو کر آ ۔
یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔
اے انسان تیرے نور کے جلووَں سے ہر شے وجود میں آئی ہے ۔ تیرے نور کے ان جلووَں کے باعث کائنات کے اسرار و رموز کا پتہ چلا ہے ۔ دریا ہو، جنگل ہو ، آبادی ہو، سورج ہو یا چاند ہو سب کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور فطرت کے تمام پوشیدہ اسرار پر سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔
تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔
اے خدا مجھے ایسا دل عطا کر دے کہ جس کی مستی اس کی اپنی ہی شراب ہو ۔ مجھ سے وہ دل واپس لے لے کہ جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو ۔
عشق جستجو کرتا رہا اور اس کی اس جستجو کا حاصل آدم ہے ۔ اس لیے عشق نے اپنا جلوہ آب و گل یعنی جسم خاکی کے پردے سے ظاہر کیا ۔
اے محبوب میرا کل سازوسامان تو مٹھی بھر خاک ہے ۔ اور میں اسے اس امید پر راہوں میں بکھیر رہا ہوں کہ ایک نہ ایک دن میں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دوں گا ۔ یعنی محبوب کی راہ میں فنا ہو کر زندگی کا اعلیٰ مقصد حاصل کر لوں گا ۔
آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔
اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔
اے خدا! تیرے عشق کا بھید ہوس کے مارے ہوئے لوگوں کے سامنے نہیں کھولا جا سکتا ۔ شعلہ میں تڑپ کی بات گھاس کے تنکے سے کہنا فضول ہے ۔ کیونکہ وہ اس تڑپ سے ہی نا آشنا ۔ جب تک شعلہ کی تڑپ تنکے تک نہیں پہنچے گی ۔ اسے اس جلن اور تڑپ کا احساس کب ہو گا اس لیے اہل ہوس کو بھی عشق کی رمز سے کوئی سروکار نہیں ۔
میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔
مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بزم طرب میں رباب اور بانسری کی لے کے ساتھ رنگ رنگ کی شرابیں پیا کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شراب کا جام میرے ہاتھوں میں اور صراحی (ساقی) کے ہاتھوں میں ہوتی تھی ۔
ایک دن ایسا آئے گا کہ خاک کے بنے ہوئے آدمیوں کی روشنی فرشتوں سے بڑھ جائے گی اور یہ زمین ہماری قسمت کے ستارے سے آسمان بن جائے گی ۔ انسان دنیاوی اور روحانی ترقی میں فرشتوں سے آگے نکل جائے گا ۔ )
میری اس اشکوں سے بھری آنکھوں نے رو رو کر میرے دامن میں ستارے گرا دیئے ہیں ۔ ان قیمتی اشکوں کی وجہ سے مجھ میں ایسا ذوق نظر پیدا ہوا کہ اس نے مجھے آسمانوں کے اس پار پھینک دیا ۔
میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔
ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔
(اے میرے محبوب) میرے اس بے چین دل کو (اپنے حسن کے جلووَں ) کی کشمکش سے ذرا بھی فراغت نہ دے ۔ اور اپنی ان پیچیدہ زلفوں میں ایک دو شکن پیدا کر دے تاکہ میں ان زلفوں کے پیچ و خم سے باہر نہ آ سکوں ۔
تو دنیا کی طرف دیکھتا ہے لیکن اپنی معرفت حاصل نہیں کرتا ۔ اے نادان تو اپنی پہچان سے کب تک غفلت برتتا رہے گا ۔
میری جان کائنات (زمان و مکان) سے بالکل اسی طرح متضاد ہے جس طرح پہاڑی سلسلے میں بہتی ہوئی ندی کا پانی (پتھروں سے ٹکرانے کے بعد ) شور کرتا ہے ۔
میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
(اے چاراگر) میرے بے چین دل کو جو تسلی تو نے دی ہے اس سے بھی اس کی بے چینی و بے قراری میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس لیے میں اپنے اس بے قرار دل کو پھر سے تیرے سپرد کر رہا ہوں ۔ تاکہ تو اس کی بے قراری کا کوئی موزوں علاج تلاش کرے) ۔
تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔