Toggle stanza 1
ای لاله ای چراغ کهستان و باغ و راغ
1

ای لاله ای چراغ کهستان و باغ و راغ

در من نگر که میدهم از زندگی سراغ

باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔

Tulip in the mountains blowing, lamp in mead and garden glowing, gaze on me, for I will give guidance on the way to live.

2

ما رنگ شوخ و بوی پریشیده نیستیم

مائیم آنچه می رود اندر دل و دماغ

ہم کوئی شوخ رنگ اور پریشان پھرنے والی خوشبو نہیں ہیں ۔ ہم تو وہ ہیں کہ جو ہمارے دل و دماغ میں ہے وہی ظاہر میں ہے ۔ (ہماری سوچ اور فکر اور ہمارا عشق ہمیں خدا آشنا کرتا ہے) ۔

We are not the pigment charming, nor the scattered scent disarming, we are that which moves confined in the heart, and in the mind.

3

مستی ز باده میرسد و از ایاغ نیست

هر چند باده را نتوان خورد بی ایاغ

مستی تو شراب میں ہوتی ہے پیالے میں نہیں ۔ بلاشبہ شراب پیالے کے بغیر نہیں پی جا سکتی (شراب اور پیالہ دونوں ضروری ہیں ۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بیکار ہے اور جسم کے بغیر روح) ۔

Drunkenness is wine-engendered, springeth not of goblet tendered, though it needs the goblet, too, to consume the wine, ’tis true.

4

داغی به سینه سوز که اندر شب وجود

خود را شناختن نتوان جز به این چراغ

اپنے سینے کے اندر غمِ عشق کا داغ روشن کر کیونکہ وجود کی اندھیری رات میں اس چراغ کے بغیر خود کو پہچانا نہیں جا سکتا ۔

Let thy breast be flame-conceiving, for within this night of living self may never come to sight save discovered by this light.

5

ای موج شعله سینه بباد صبا گشای

شبنم مجو که میدهد از سوختن فراغ

اے شعلہَ عشق کی موج اس سینے کو صبح کی نرم و لطیف ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشادہ کر دے ۔ (اے عشق کے متلاشی) شبنم کی تلاش یا آرزو نہ کر کہ یہ شبنم اس شعلے کو بجھا دیتی ہے جس سے زندگی حرارت ہے ۔

Wave of flame, O bare thy bosom to the morning-breeze; O blossom, do not seek the dew, to quell Thy heart’s fiery crucible!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور