صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. شیخ محمود شبستری
  2. »سعادت نامه
  3. »باب دوم
  4. »فصل چهارم
  5. »بخش 11 - الضلال المبین

بخش 11 - الضلال المبین

شاعر: شیخ محمود شبستری

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

صنف: مثنوی

Toggle stanza 1
1

علم و قدرت هر آنکه کرد انکار

به ارادت نیاورد اقرار

2

شبهه اندیش از تغیر ذات

گفته شد در جواب نفی صفات

3

هرچه حق خواستست آن خواهد

نه فزاید بر آن، نه زو کاهد

4

آنچه خواهد که باشد آن باشد

گرچه در گردش زمان باشد

5

کرد کوری چشم​های علیل

روشن این راه را بلاتبدیل

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن شنیدی که خواجه صاین دین

گفت رهبر کسی بود در دین

شیخ محمود شبستری»سعادت نامه»فصل چهارم»بخش 10 - حکایت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور