صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. شیخ محمود شبستری
  2. »سعادت نامه
  3. »باب دوم
  4. »فصل هفتم
  5. »بخش 3 - حق الیقین

بخش 3 - حق الیقین

شاعر: شیخ محمود شبستری

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

صنف: مثنوی

Toggle stanza 1
1

این همه بحث​های لفظی بود

ورنه در اصل نیست گفت و شنود

2

صفت حق چو ذات بیچون است

به حقیقت ز حصر بیرون است

3

گفت و گوئی ز فهم خود کردند

سعی خود را بجای آوردند

4

آخرالامر چون فروماندند

ورق عجز خویش برخواندند

5

غایة الواصفین عن صفتک

«ماعرفناک حق معرفتک»

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نیست مفهوم هیچ یک موقوف

بر کسی جز حقیقت موصوف

شیخ محمود شبستری»سعادت نامه»فصل هفتم»بخش 2 - عین الیقین

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور