صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. شیخ محمود شبستری
  2. »سعادت نامه
  3. »باب چهارم
  4. »فصل دوم
  5. »بخش 3 - حکایت

بخش 3 - حکایت

شاعر: شیخ محمود شبستری

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

صنف: مثنوی

Toggle stanza 1
1

پشّه​ای رفت بر درخت چنار

گفت خواهم که بر پرم هشدار

2

گفتش آخر کزین نشست چه خاست

تا زبرخاستن چه خیزد راست

3

پشه​ای بیش نیستی به وجود

تا که اندیشی از قیام و قعود

4

هیچ از طور خویشتن مگذر

فطرت خویش را به جای آور

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سبب فعل حق چو ما باشیم

او شود خلق و ما خدا باشیم

شیخ محمود شبستری»سعادت نامه»فصل دوم»بخش 2 - عین الیقین

اگلی نظم

در جهانی که خالی از ستم است

سبب فعل و غایتش بهم است

شیخ محمود شبستری»سعادت نامه»فصل دوم»بخش 4 - حق الیقین

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور