صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قصاید و قطعات
  4. »شمارهٔ 136

شمارهٔ 136

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعلن مفاعیلن (هزج مسدس اخرب مقبوض)

قافیہ: یشیم

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
1

گر تو به دو گانه‌ای ز ما پیشی

ما از تو به فضل و مردمی پیشیم

2

گر زر نبود ز خدمتت ما را

از سبلت تو به جو نیندیشیم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ما فرش بزرگی به جهان باز کشیدیم

صد گونه شراب از کف اقبال چشیدیم

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 135 - این قطعه را بر گور نظام الملک محمد نوشتند

اگلی نظم

ای علایی ببین و نیک ببین

که زمانه ستمگریست عظیم

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 137

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور