صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 122

رباعی شمارهٔ 122

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: الیدارد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

از روی تو دیده‌ها جمالی دارد

وز خوی تو عقلها کمالی دارد

2

در هر دل و جان غمت نهالی دارد

خال تو بر آن روی تو حالی دارد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هجر تو خوشست اگر چه زارم دارد

وصل تو بتر که بی‌قرارم دارد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 121

اگلی نظم

با هجر تو بنده دل خمین می‌دارد

شبهاست که روی بر زمین می‌دارد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 123

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور