صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قصاید و قطعات
  4. »شمارهٔ 52

شمارهٔ 52

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: یچندارد

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
1

ای خواجه اگر قامت اقبال تو امروز

مانند الف هیچ خم و پیچ ندارد

2

بسیار تفاخر مکن امروز که فردا

معلوم تو گردد که الف هیچ ندارد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای که از بهر خدمت در تو

بست دولت میان و کام گذارد

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 51

اگلی نظم

چون ز بد گوی من سخن شنوی

بر تو تهمت نهم ز روی خرد

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 53

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور