صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 125

غزل شمارهٔ 125

شاعر: سنایی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: الکند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر شبی عشق تو بر تخت دلم شاهی کند

صدهزاران ماه آن شب خدمت ماهی کند

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 124

اگلی نظم

مردمان دوستی چنین نکنند

هر زمان اسب هجر زین نکنند

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 126

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

جمال را نگه تلخ او جلال کند

حرام را لب میگون او حلال کند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3932

اجل چه کار به جانهای با کمال کند

چرا ملاحظه خورشید از زوال کند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3933

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00