صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 245

رباعی شمارهٔ 245

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ردهیعشق

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

کی بسته کند عقل سراپردهٔ عشق

کی باز آرد خرد ز ره بردهٔ عشق

2

بسیار ز زنده به بود مردهٔ عشق

ای خواجه چه واقفی تو از خردهٔ عشق

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گویند که کرده‌ای دلت بردهٔ عشق

وین رنج تو هست از دل آوردهٔ عشق

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 244

اگلی نظم

چشمی دارم ز اشک پیمانهٔ عشق

جانی دارم ز سوز پروانهٔ عشق

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 246

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور