صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 9

رباعی شمارهٔ 9

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اغیستمرا

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

در دل ز طرب شکفته باغیست مرا

بر جان ز عدم نهاده داغیست مرا

2

خالی ز خیالها دماغیست مرا

از هستی و نیستی فراغیست مرا

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در منزل وصل توشه‌ای نیست مرا

وز خرمن عشق خوشه‌ای نیست مرا

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 8

اگلی نظم

اندوه تو دلشاد کند مر جان را

کفر تو دهد بار کمی ایمان را

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 10

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور