صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 106

رباعی شمارهٔ 106

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ارتباد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای شاخ تو اقبال و خرد بارت باد

در عالم عقل و روح بازارت باد

2

نام پدرت عاقبت کارت باد

کارت چو رخ و سرت چو دستارت باد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر جاه ترا بلندی جوزا باد

درگاه ترا سیاست دریا باد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 105

اگلی نظم

گوشت سوی عاقلان غافل‌وش باد

چشمت سوی صوفیان دردی کش باد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 107

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور